سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کشمیراور فلسطین کے تنازعات طویل عرصہ سے حل نہ ہونیکی وجہ ویٹو پاور ہے:منیراکرم کاجنرل اسمبلی سے خطاب

نیویارک/سری نگر(پی پی آ ئی)پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالہ سے پانچ مستقل ارکان کو حاصل ویٹو پاور کو اہم ترین ایشو قرار دیتے ہوئے فلسطین اور کشمیر جیسے اہم تنازعات کے طویل عرصہ سے حل نہ ہونے کی وجہ ویٹو پاور کو قرار دیا ہے۔ کشمیر میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی میں اس حوالے سے ایک مباحثے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پانچ مستقل ارکان کی تزویراتی مخاصمت اور ویٹو کے استعمال نے سلامتی کونسل کو مفلوج کر دیا ہے۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کی طرف سے ویٹو کے استعمال کا جواز پیش کرنے کے مطالبے پر مبنی تاریخی قرار داد کوایک سال مکمل ہونے کے موقع پر مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہاکہ سلامتی کونسل کو زیادہ موثر بنانے کیلئے اس کے پانچ مستقل ارکان کوحاصل حق کو کونسل میں اصلاحات کا حصہ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ کونسل کے مستقل ارکان کو حاصل ویٹو پاور کی وجہ سے ہی کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ تنازعات کو حل نہیں کیا جا سکا کیونکہ کونسل میں ویٹو نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کو روکا اور اس میں رکاوٹ ڈالی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ویٹو کے مسئلے کو حتمی طور پر حل کرنا ہو گا اور اسے الگ سے نہیں بلکہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کے لازمی جزو کے طور پر حل کر نا ہوگا۔ گزشتہ سال اقوام متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی کی طرف سے اتفاق رائے سے منظور کی گئی قرار داد میں مطالبہ کیا گیا تھاکہ سلامتی کونسل کے کسی بھی رکن کی طرف سے ویٹو کے استعمال کی صورت میں جنرل اسمبلی 10یوم کے اندر اپنا اجلاس منعقد کرے۔منیر اکرم نے کہا کہ تجربے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مستقل ارکان کے ویٹو کے حق کے غلط استعمال پر پابندی یا اسے ختم کرنا سلامتی کونسل کی اصلاحات کا ایک لازمی حصہ ہونا چاہیے، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان یونائیٹنگ فار کنسن سس گروپ کے ساتھ سلامتی کونسل میں اصلاحات اور توسیع کے عمل میں اس کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافے کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ مزید مستقل ارکان اور زیادہ ویٹو اختیارات سلامتی کونسل کے مفلوج اور غیر فعال ہونے کے امکانات کو بڑھا دیں گے۔اس موقع پر جنرل اسمبلی کے صدر سابا کوروسی نے کہا کہ ویٹو کے استعمال کا مسئلہ پوری اقوام متحدہ کو متاثر کرتا ہے اور ان ہالز میں کئے گئے فیصلوں کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دیتی ہے۔