شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عوام انتخابات میں سیاسی مداریوں کو مسترد کر دیں:الطاف شکور

کراچی(پی پی آئی) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ اس بار عام انتخابات میں عوام سیاسی مداریوں اور بازی گروں کو مسترد کر دیں۔ان سیاسی مداریوں نے لسانیت کی ڈگڈگی بجا کر عوام کو استعمال کیا ہے۔عوام طرح طرح کے دھوکے کھا کر اب باشعور ہو چکے ہیں۔ ووٹ کے ساتھ ساتھ شعور کو بھی استعمال کرتے ہوئے خدمت کی سیاست کو ہی منتخب کریں گے۔  موروثی سیاست نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔  بگ تھری میں ملک کی دولت لوٹنے والے اور انتخابات میں بے دریغ خرچ کرنے والے لٹیرے گھوم پھر کر آجاتے ہیں۔ سیاسی نظام میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے جو یہ لٹیرے کبھی نہیں کریں گے۔  تینوں بڑی سیاسی جماعتوں میں موجود الیکٹ ایبلز نے ملک و قوم کو ہمیشہ نقصان ہی پہنچایا ہے۔ یہ پارٹیاں ذاتی مفاد کے لئے تو اکٹھا ہو جاتی ہیں لیکن عوام کی پریشانیوں کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔پاسبان مظلوم عوام کی پارٹی ہے،عوام کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر مضبوط کر نا چاہتے ہیں۔ عام انتخابات کے لئے پیسے کا کھیل شروع ہوچکا ہے۔سیاسی جلسوں اور ممبران کی خرید و فروخت پر خرچ کیا جانے والا پیسہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جانا چاہئیے۔ انتخابات سے سرمائے اور طاقت کے استعمال کو ختم کر کے متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج کیا جائے۔  پارلیمنٹ تک عام آدمی کی رسائی ممکن بنائی جائے۔ ترقی یافتہ دنیا کی طرح پاکستان میں بھی متناسب نمائندگی کی طریقہ انتخاب کی ضرورت ہے۔ ووٹرز لسٹ تک ووٹرز اور امیدواروں کی آن لائن رسائی ممکن بنائی جائے۔پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کا مطالبہ ہے کہ متناسب نمائندگی کی بنیاد پر عام انتخابات کے لئے قانون سازی کی جائے تا کہ ایک عام آدمی بھی اربوں کھربوں روپے خرچ کرنے والے امیدوار وں کاآسانی سے مقابلہ کر سکے۔ متناسب نمائندگی پر انتخابات کروا کر عوام کو اسمبلیوں میں آنے اور اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقعہ دیا جائے۔ یہ ہمارے بچوں کے حقوق کا سوال ہے۔جدوجہد تیز نہ کی گئی تو ہماری نسلیں غلام ابن غلام رہیں گی۔ بلاول اور مریم کو پاکستان کو وراثت سمجھ کر منتقلی کی سازش کی جارہی ہے۔عوام مسائل کے حل اور ریلیف کے لئے آئندہ انتخابات میں موروثی سیاست کو مسترد کر دیں.