شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا یوم پیدائش منایا گیا

کراچی(پی پی آئی) اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کاہفتہ کو 112 واں یوم پیدائش منایا گیا۔سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد وہ نقل مکانی کر کے لاہور شفٹ ہوگئے، ان کا شمار اردو کے ان نامور افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جن کی تحریریں آج بھی بڑے ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ان کے افسانے محض واقعاتی نہیں بلکہ ان میں موضوعاتی جدت پائی جاتی تھی اور دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو بولی، سمجھی اور لکھی جاتی ہے وہاں پر ان افسانوں کی شکل میں سعادت حسن منٹو کے خیالات و مشاہدات موجود ہیں۔پی پی آئی کے مطابق سعادت حسن منٹو نے اپنے کیریئر کا آغاز لدھیانہ کے ایک اخبار سے کیا اور مرتے دم تک قلم سے ہی رشتہ استوار رکھا، ان کی اہم ترین تصانیف میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، آتش پارے، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں اور دیگر قابل ذکر ہیں۔عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے اپنی زندگی کا آخری حصہ لاہور میں ہی گزارا اور 18 جنوری 1955کو اس دار فانی سے رخصت ہوگئے۔