سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مولانا ظفر علی خاں کی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

وزیرآباد (پی پی آئی) تحریک آزادی کے دوران مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کی برسی منائی گئی۔معروف مصنف، شاعر اور صحافی مولانا ظفرعلی خان 19 جنوری 1873کو وزیر آباد کے گاؤں میں پیدا ہوئے ان کا شمار تحریک پاکستان کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے، مولانا ظفر علی خان نے علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجوایشن کرنے کے بعد ممبئی میں کچھ عرصہ نواب محسن الملک کے سیکرٹری کے طور پر کام کیا۔بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان نے حیدر آباد دکن کے محکمہ داخلہ میں مترجم کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور وہیں سے دکن ریویو کے نام سے اخبار جاری کیا، معرکہ مذہب و سائنس، غلبہ روم، سیر ظلمت اور جنگ روس و جاپان کے نام سے کتابیں تصنیف کیں۔مولانا ظفر علی خان انقلابی اور مذہبی شاعری کے بے مثال تحفہ سے بھی مالا مال تھے ان کی شاعرانہ کاوشیں بہارستان، نگارستان اور چمنستان کی شکل میں چھپ چکی ہیں، 1908 میں ظفر علی خان نے اپنے والد کے اردو اخبار زمیندار کی ادارت سنبھالی، ان کو اردو صحافت کا امام بھی کہا جاتا ہے۔1934میں پنجاب حکومت نے اخبار پر پابندی عائد کی تو مولانا ظفر علی خان نے عدلیہ کے ذریعے حکومت کو اپنے احکام واپس لینے پر مجبور کیا، 1935  میں مسجد شہید گنج کو گردوارہ بنانے کے خلاف نیلی پوش کے نام سے تحریک چلائی، انہوں نے 27 نومبر 1956کو وفات پائی۔وزیرآباد میں  مولانا ظفر علی خاں  کے مزار کے احاطہ میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ان کے احباب کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور مولانا کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ مقررین نے کہا کہ تحریک آزادی کے ہیرو مولانا ظفر علی خان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، مسلمانان ہند کو خواب غفلت سے جگا کر آزادی کی نعمتوں سے سرفراز کرنے میں ان کے قلم نے غیر معمولی جوہر دکھائے۔ آپ قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے 1906 میں جب مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تو آپ اس کے بانیوں میں تھے۔ نئی نسل کو مولانا ظفر علی خاں کے نقش قدم پر چلنے اور باطل کیخلاف ڈٹ جانے کا درس دینا ہو گا۔