سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پیپلز بس سروس کے کرایوں میں اضافہ مسترد کرتے ہیں:پاسبان

کراچی30جنوری (پی پی آئی) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے ڈائریکٹر پبلک ایشوز کمیٹی ابوبکر عثمان نے کہا ہے کہ پیپلز بس سروس کے کرایوں میں ظالمانہ اضافہ مستردکرتے ہیں۔ سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور کرایوں میں اضافہ واپس لے۔غریب افراد، طالبعلم اور نوکری پیشہ خواتین وحضرات کی ایک بڑی تعدادان بسوں میں سفر کرتی ہے جس کے لئے 80 اور120 روپے کرایہ بہت زیادہ ہے۔ اگر آپریشنل کاسٹ میں کچھ اضافہ کرنا ہی ہے تو دس یا بیس روپے کرایہ بڑھایا جا سکتا ہے۔ 50 کی جگہ کرایہ 60یا 70روپے کئے جا سکتے ہیں۔ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کرایوں میں ظالمانہ اضافے کا فوری نوٹس لے۔ عوام کو سستی اور اچھی ٹرانسوپرٹ سے محروم نہ کیا جائے۔ ٹرانسپورٹ کے تمام منصوبے عوام کے لئے شروع کئے گئے ہیں۔ مالی طور پر مستحکم افرادان بسوں میں سفر نہیں کرتے۔ جس انسان کی تنخواہ تیس یا چالیس ہزار روپے ہے وہ روزانہ دو سو یا اس سے زیادہ کرائے میں خرچ کرے گا تو دیگر ضروریات زندگی کیسے پوراکرے گا؟  برسوں سے عوام ٹرانسپورٹ کی اذیت کا شکار ہیں۔ ریڈ لائن یا گرین لائن کے علاوہ کوئی ڈھنگ کی پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہی نہیں ہے۔ حالانکہ ریڈ بس میں بھی گنجائش سے زیادہ مسافرسفر کرتے ہیں لیکن طویل فاصلے تک روزانہ سفر کرنے کا کوئی اور ذریعہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے پبلک نیہ بھی برداشت کرتی ہے۔ سینئر سٹیزنز کے لئے دنیا بھر میں رعایت دی جاتی ہے یا مفت سفر کی سہولت مہیا کی جاتی ہے لیکن ریڈ لائن یا گرین لائن سمیت دیگر منصوبوں میں بزرگ افراد کو کرایوں میں کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے۔ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی حکومت سندھ کا ادارہ ہے جو کرایے طے کرتا ہے۔ لیکن ریڈ لائن کے کرایے بڑھانے سے پہلے آر ٹی اے سے اجازت بھی نہیں لی گئی ہے۔ نہ ہی اس ادارے کی جانب سے کوئی نوٹیفیکیشن ہے۔ یہ کرا ئے خود ساختہ بڑھائے گئے ہیں۔ پانی، بجلی اور گیس کی طرح ٹرانسپورٹیشن بھی بنیادی ضرورت ہے جسے مہیا کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ د اری کو سہل بنایا جائے تا کہ عوام کو ریلیف ملے۔اگر کرائے اسی طرح بڑھتے رہے تو پبلک کے لئے سفر کرنا مشکل ہو جائے گا۔ پندرہ کلومیٹر تک کرایہ اسی روپے اور اس سے زیادہ ایک سو بیس روپے مقرر کئے گئے ہیں جو کہ ایک عام آدمی کے لئے بہت زیادہ ہیں