کراچی (پی پی آئی)کراچی کے تھانہ سائٹ اے کی حدود میں سی ٹی ڈی نے کارروائی کرتے ہوئے بنگالی ڈکیت گروپ کے3 کارندے سرغنہ سمیت گرفتار کرلیے۔پی پی آئی کے مطابق رات گئے تھانہ سائٹ اے کی حدودمیں کارروائی کے دوران گرفتار ملزمان کی شناخت عمران نذیر، عمر فاروق، عبید اللہ عرف وحید کے نام سے ہوئی ہے، ملزمان سے ایک 9 ایم ایم اور دو30بور کیٹی ٹی پستول برآمد کرلی گئی۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزمان نیشریف آباد میں موبائل فون کی دکان لوٹنے کے دوران مزاحمت پر دکاندارکوگولی مارکرزخمی کردیاتھا۔۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ملزمان اس سے قبل متعدد بار گرفتار ہو کر جیل جا چکے ہیں، اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔
سابق ہاکی کھلاڑی امین خان کیلئے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ
محسن خان کا قومی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کیلئے درخواست دینے کافیصلہ
میلبورن کرکٹ گراﺅنڈ میں شائقین کی آمد کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا
کرکٹر عمر اکمل کا ٹریفک وارڈنز سے جھگڑا ،تھانہ گلبرگ میں مقدمہ درج
قومی کرکٹرشعیب ملک نے زندگی کی 32 بہاریں دیکھ لیں
بہتری کے نام پر آئی سی سی میں تین ملکوں کی اجارہ داری ہوجائیگی : عمران خان
تازہ ترین خبریں
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ
(June 11, 2026)
پاکستان کے پہلے رومانوی ہیرو سنتوش کمار کی میراث کا جشن
(June 11, 2026)
پاسپورٹ کی گھر کی دہلیز تک فراہمی کے منصوبے پر نمایاں پیش رفت
(June 10, 2026)
- April 25, 2026
- April 23, 2026
- April 22, 2026
- April 07, 2026
اشتہار
تازہ ترین
چھینے گئے موبائل فون خریدنیوالے دکان داروں کی نشاندہی کردی، ملوث دکانداروں کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل
کراچی (پی پی آئی)سی ٹی ڈی سندھ نے صوبہ بھر میں پکڑے گئے ملزمان کی نشاندہی پر چھینے گئے موبائل فونزکی خریدو فروخت میں ملوث دکان داروں کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔پی پی آئی کے مطابق سی ٹی ڈی سندھ نے اسٹریٹ کرائمز میں ملوث ایک بڑے نیٹ ورک کا پتہ چلایا ہے جس کے گرفتار کارندوں کی نشاندہی پر چھینے گئے موبائل فون خریدنیوالے دکان داروں کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ اس نیٹ ورک میں شامل دیگر شہروں کے ملزمان کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکی بھیجی گئی ہیں
تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی سے پاور سیکٹر کو کھربوں روپے کا نقصان
کراچی (پی پی آئی) بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کے باعث پاور سیکٹر کو دو سال میں کھربوں روپے کا نقصان ہوا۔ذرائع وزرات توانائی کے مطابق پاور سیکٹر کی ناکام پالیسیاں اور ڈسکوز کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے کم ریکوری کے باعث دو سال میں 708 ارب گردشی قرضے کا حصہ بن گیا۔پی پی آئی کے مطابق دو سال کے دوران پاور سیکٹر کو 253 ارب روپے، رواں سال ڈسکوز کی خراب کارکردگی کے باعث وزرات توانائی کو 160 ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ گزشتہ سال ڈسکوز نے قومی خزانے کو 133 ارب روپے کا نقصان پہنچایا، رواں سال ڈسکوز کی کارکردگی مزید خراب رہی۔ذرائع کے مطابق دو برسوں میں وصولیوں میں ناکامی کے باعث حکومت کو 416 ارب روپے کا نقصان ہوا، رواں سال ڈسکوز کی ریکوریاں ٹارگٹ سے 236 ارب روپے کم رہیں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا 80 فیصد سسٹم اوورلوڈ ہے، ٹرانسفامرز اور گرڈ سٹیشنز بھی بجلی کی بڑی مقدار ضائع کر دیتے ہیں۔
مودی وزیراعظم نہیں دہشت گرد، ہردیپ سنگھ کے قتل سے را کا چہرہ بے نقاب: مشعال ملک
فیصل آباد (پی پی آئی)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے انسانی حقوق مشعال ملک نے کہا ہے کہ مودی اب وزیراعظم بن کر خطے میں دہشت گردی کر رہا ہے، ہردیپ سنگھ کے قتل میں را کا چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔پی پی آئی کے مطابق فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشعال ملک کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا اور یورپ میں سکھ کمیونٹی کو ہراساں کیا جا رہا ہے، پاکستان میں بھی بھارت کی دہشت گرد سرگرمیاں جاری ہیں، عالمی برادری کو بھارتی دہشت گردی پر نوٹس لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس نے بھارت میں کئی گوردواروں اور گرجا گھروں کو جلایا، مقبوضہ کشمیر میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، کلبھوشن کراچی، پنجاب، فاٹا سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام 75 سالوں سے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے آئے ہیں، مودی کی ایما پر مسجدوں کو شہید کیا گیا، عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی گئی، بھارت کی دہشت گرد کارروائیاں کوئی نئی بات نہیں ہے۔
تلاش کریں
خبریں

سابق ہاکی کھلاڑی امین خان کیلئے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ
(February 3, 2014)
لاہور: انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے سابق ہاکی کھلاڑی امین خان کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نواز دیا ۔ امین خان اس وقت خواتین ہاکی کھلاڑیوں کی کوچنگ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔امین خان کو گزشتہ روز لاہور میں انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے تعاون سے ہونے والی تقریب میں ہیومن رائٹس انٹرنیشنل کی طرف سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔

محسن خان کا قومی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کیلئے درخواست دینے کافیصلہ
(February 3, 2014)
کراچی: سابق ٹیسٹ کرکٹر محسن خان نے قومی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کرنے کے لئے باقاعدہ درخواست دینے کا فیصلہ کرلیا ۔ خصوصی بات چیت میں محسن خان کا کہنا تھا کہ ذاتی ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے انہیں ہیڈ کوچ کی آسامی کے دیگر امیدواروں پر برتری حاصل ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت کوچ انہوں نے مختصر عرصے میں قومی ٹیم کو فتح کی راہ پر گامزن کردیا تھا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کارکردگی دنیا کے سامنے ہے اورانگلینڈ کو ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کرنا کوئی اتفاق نہیں تھا ۔

میلبورن کرکٹ گراﺅنڈ میں شائقین کی آمد کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا
(February 3, 2014)
سڈنی: انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان میلبورن کرکٹ گراﺅنڈ میں دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں شائقین نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے ریکارڈ قائم کردیا ۔ یہ انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کے مجموی سیزن میں اس گراﺅنڈ میں شائقین کی آمد کا نیا ریکارڈ ہے ۔ آسٹریلوی بورڈ کی طرف دے جاری شدہ ایک اعلامئے کے مطابق دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ کو دیکھنے کے لئے 64ہزار 385شائقین نے ایم سی جی کا رخ کیا جس سے سیزن میں مجموعی حجم 16لاکھ 36ہزار 292تک پہنچ گیا ۔

کرکٹر عمر اکمل کا ٹریفک وارڈنز سے جھگڑا ،تھانہ گلبرگ میں مقدمہ درج
(February 1, 2014)
لاہور: قومی کرکٹر عمر اکمل لاہور میں ٹریفک اشارہ توڑنے پر روکنے والے وارڈن سے الجھ پڑے،آل راﺅنڈر کے خلاف تھانہ گلبرگ میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔عمر اکمل نے حسین چوک لاہور میں نہ صرف ٹریفک سگنل توڑا بلکہ روکنے والے ٹریفک وارڈن سے بدتمیزی کی اور اسے معطل کرانے کی دھمکیاں بھی دیں۔اے ایس پی زاہد انور کے مطابق تین ٹریفک وارڈنز نے عمر اکمل کو روکا تو پاکستانی بلے باز نے ٹریفک وارڈن کو تشدد کا نشانہ بنایااور دھمکیاں دیں۔عمر اکمل کیخلاف دفعہ 506،353،186 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔عمر اکمل نے الزامات کی تردید کر تے ہوئے کہا ہے کہ وارڈنز نے بلاوجہ ان پر تشدد کیا ہے ۔اس سے پہلے سابق اولمپیئن قاسم ضیا کی بیٹی انعم ضیا بھی ایلیٹ فورس کے جوان کو تیز رفتار ڈرائیونگ سے زخمی کر چکی ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے قانون سب کے لئے برابر ہے ،حکومتی کام میں مداخلت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

قومی کرکٹرشعیب ملک نے زندگی کی 32 بہاریں دیکھ لیں
(February 1, 2014)
لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک نے زندگی کی 32 بہاریں دیکھ لیں۔ یوں توشعیب ملک کے کیریئر میں کئی اتار چڑھاو آئے لیکن بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا سے شادی کے بعد تو جیسے ان کی کارکردگی کو نظر ہی لگ گئی۔کرکٹ ہیرو کی ٹینس اسٹار ہیروئن کیساتھ جوڑی دنیا بھر میں مقبول ہوئی پر شادی کے بعد کامیابی کے دروازے تو جیسے ملک جی پر بند ہی ہوگئے۔ پاکستان ٹیم کی کپتانی بھی ہاتھ سے جاتی رہی۔ ٹیم سے اندر باہر ہونے کا سلسلہ بھی زور پکڑ گیا۔ کبھی ڈسپلن تنازعوں نے گھیرا، تو کبھی سپر سکسز ٹورنامنٹ میں فکسنگ کی خبروں نے بدنام کیا ۔ شادی کے بعد چار سال میں صرف 54 میچز کھیلے۔ 742 رنز ہی جوڑ سکے وہ بھی اٹھارہ کی اوسط سے، وکٹوں کی تعداد صرف 13 رہی۔شادی سے پہلے کے 54 میچز میں اکتیس اعشاریہ چھ چار کی اوسط سے 1519 رنز جوڑے جن میں تین سنچریاں بھی شامل تھیں اور ساتھ 26وکٹیں بھی اڑائیں۔شادی کے بعد ثانیہ مرزا کی کارکردگی کو بھی زوال آگیا، شادی سے پہلے ثانیہ مرزا نے 30 ٹائٹل جیتے شادی کے بعد سے اب تک ان کے ٹائٹل جیتنے کی تعداد محض 13 ہے۔

بہتری کے نام پر آئی سی سی میں تین ملکوں کی اجارہ داری ہوجائیگی : عمران خان
(February 1, 2014)
لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور1992کرکٹ ورلڈ کپ کے فاتح عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت آسٹریلیا اور انگلینڈ آئی سی سی کی تشکیلِ نو کے نام پر تصادم کے بیج بو رہے ہیں جس سے صرف انہی تین ملکوں کی اجارہ داری قائم ہوگی۔ عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ تین ملکوں کے اس مجوزہ مسودے نے انہیں ماضی کی یاد دلا دی ہے جہاں انگلینڈ اور آسٹریلیا کی اجارہ داری تھی۔ سابق کپتان نے کہا کہ انہوں نے 1993 میں آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت کی تھی جہاں وہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کی رعونت دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔ ’یہ وہ دور تھا جب ان دو ملکوں کو ویٹو پاور حاصل تھا اور اب لگتا ہے کہ وہ دور واپس لانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔‘ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت نے آئی سی سی میں جمہوریت لانے اور دو ممالک کی اجارہ داری ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اب بھارت اپنی مالی حیثیت اور انگلینڈ اور آسٹریلیا کی حمایت کے سبب آئی سی سی کو دوبارہ ماضی کی پوزیشن میں لے جانے میں مصروف ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اگر وہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں ہوتے تو اس نئے نو آبادیاتی نظام کی زبردست مخالفت کرتے۔ آئی سی سی کو کرکٹ کی بہتری کے لیے کام کرنے والا ادارہ بنانے کی ضرورت ہے اس میں چند ملکوں کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی کرکٹ کا معیار بلند کرنا ہوگا اور اس کے علاوہ ویسٹ انڈیز کو بھی یہی کچھ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شائقین اور براڈکاسٹرز انہیں اہمیت دے سکیں۔
