پال جی ایلنموساشی بحری جنگی جہاز کے ملبے کے براہ راست زیر آب دورے پیش کریں گے

شیک 2015ء- ایشیا بحر الکاہل خطے کا سب سے بڑا اور موثر ترین فیشن میلہ شنگھائی، چین منتقل

جے اے سولر نے 1500 وولٹ پی وی ماڈیول کا اجراء کردیا

لیکوئی-بکس نے جراثیم سے پاک پیکیجنگ حل پیش کرنے پر تکنیکی جدت کا اعزاز حاصل کرلیا

ریکارڈنگ آرٹسٹ سر آئیون نے دھونس و دھمکی کے خلاف کوششوں کی مدد کے لیے نیا ترانہ جاری کردیا، ایک 100,000 ڈالرز بھی دینے کا اعلان

پال جی ایلن نے دوسری جنگ عظیم میں غرق ہونے والے جاپانی جنگی بحری جہاز موساشی کا پتہ لگا لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تلاش کریں

پال جی ایلنموساشی بحری جنگی جہاز کے ملبے کے براہ راست زیر آب دورے پیش کریں گے

بحیرۂسبویان، فلپائنز، 11 مارچ 2015ء/ پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — انسان دوست شخصیت اور کاروباری منتظم پال جی ایلن اور ان کی تحقیقی ٹیم جاپان کے بحری جنگی جہاز موساشی کے زیر آب ملبے کی براہ راست اسٹریم پیش کرے گی جو تاریخ کے معروف اور تکنیکی طور پر جدید ترین بحری جنگی جہازوں میں سے ایک تھا۔ اس کا آغاز 13 مارچ 2015ء بروز جمعہ کو 9 بجے صبح پی ایچ ٹی/10 بجے صبح جے پی ٹی ہوگا۔ یہ دورہ ڈوبنے والے جہاز کا پہلا مکمل نظارہ پیش کرے گا۔ ناظرین بحری جنگی جہاز کی ایک گھنٹے سے زیادہ کی خصوصی فوٹیج کا تجربہ اٹھائیں گے، جس میں جہاز کے اگلے اور پچھلے حصوں، اور کمان دار کا مرکزی برج شامل ہیں۔ دورہ اسی انتہائی جدید ریموٹآپریٹڈوہیکل (آر اووی) استعمال کرکے کیا جائے گا جو موساشی کی دریافت میں استعمال ہوئی تھی۔ موساشی 2 مارچ 2015ء کو پال جی ایلن کی زیر آب تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا تھا۔ ٹیم نے چار ممالک کے تاریخی ریکارڈز، تفصیلی زیر سمندر مقام نگاری کے ڈیٹا اور جناب ایلن کی کشتی ایم/وائی آکٹوپس پر موجود جدید ٹیکنالوجی استعمال کیا ۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے 70 سال مکمل ہونے کا سال ہے، اور اس بحری جنگی جہاز کی دریافت بحری تاریخ کی تواریخ میں اہم سنگ میل ہے۔ پال جی ایلن کا بیان: “آٹھ سال کی تندہی کے ساتھ کی گئی تحقیق کے بعد موساشی کی تلاش میرے اور میری ٹیم کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل لمحہ تھا۔ ہم بحری تاریخ کے اس اہم جہاز کی تلاش میں کردار ادا کرنے پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں اور بچ جانے والوں، اپنی جان دینے والوں کے اہل خانہ اور دنیا کے سامنے اسے پیش کرنے پر خوش ہیں۔” براہ راست اسٹریم تک کیسے پہنچیں: http://musashi.paulallen.com پر جائیں یا یوٹیوب پر: http://youtu.be/qNMmqagTt90 سوشل: #MusashiLiveہیش ٹیگ اور @VulcanInc کے ذریعے بات چیت کریں آرکائیو: لائیو اسٹریم کو http://www.paulallen.com/Musashi-Expeditionپر آرکائیو کیا جائے گا تاریخ: 13 مارچ 2015ء نوٹ: کیونکہ یہ ایک براہ راست موقع ہے اس لیے موسم ایک اہم عنصر ہے۔ موسم کی وجہ سے ہونے والی کسی بھی تاخیر پر PaulAllen.com پر اطلاع دی جائے گی۔ وقت: صبح 9 بجے پی ایچ ٹی، صبح 10 بجے جے پی ٹی (9 بجے شب ایڈی ٹی،12 مارچ 2015ء) کو شروع ہونے کے بعد تقریباً 1.5 سے 2 گھنٹے  طویل اجازت: تمام ابلاغی و خبری اداروں کو یہ براہ راست اسٹریم نشر کرنے اور اسے اپنی ترجیحی زبان میں ترجمہ کرنے کی اجازت ہے۔ نشریات انگریزی میں پیش کی جائیں گی۔ رابطہ: [email protected]

مزید پڑھیں

شیک 2015ء- ایشیا بحر الکاہل خطے کا سب سے بڑا اور موثر ترین فیشن میلہ شنگھائی، چین منتقل

جدت طرازی اور اقدار کے فروغ کی رہنمائی کرتا ہو ا شنگھائی، 10 مارچ 2015ء/ پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — چین کا بین الاقوامی فیشن میلہ (شیک) ایشیا-بحر الکاہل خطے میں سب سے بڑا اور موثر ترین میلہ ہے۔ 23 واں چائنا بین الاقوامی فیشن میلہ (شیک2015ء) 8 سے 20 مارچ 2015ء تک شنگھائی ہونگ چیاؤ کاروباری علاقے میں نو تعمیر شدہ قومی ایگزی بیشن اینڈ کنونشنل سینٹر میں منعقد ہوگا۔ شیک 2015ء 100,000 مربع میٹرز کا احاطہ کرتا ہے، جس میں 21 ممالک اور خطوں کے 1,000 سے زیادہ برانڈز شامل ہوں گے۔ چین کی ملبوسات کی صنعت میں نقیب کی حیثیت سے شیک مسلسل جدت اختیار کرتا اور اپنی مجموعی وضع قطع، انداز اور کارگزاری میں بہتری لا رہا ہے جو صنعت اور مارکیٹنگ کی تبدیل ہوتی طلب پر انحصار کرتی ہیں۔ گزشتہ آٹھ اہم شعبوں کی بنیاد پر جیسا کہ مردوں کے ملبوسات، روزمرہ اور کھیلوں کے ملبوسات، خواتین کے ملبوسات، بچوں کے ملبوسات، چمڑے/پشمی اور زیریں ملبوسات، فیشن لوازمات، اس سے متعلقہ ذرائع اور غیر ملکی حصے، چار نئے علاقے، جس میں ان سگنیچر، فیوچر لنک، امپلسز اور سپیریئر فیکٹری شامل ہیں، شیک 2015ء میں لائے جائیں گے۔ شیک 2015ء میں چار نمائش-در-نمائش ہوں گی: بین الاقوامی جوتوں اور چمڑے کی مصنوعات کی نمائش (دی میکام شنگھائی اور اٹالین فیشن @ شیک) از اٹلی، “پری-ویو ان چائنا-2015ء” از کوریا، “پی ایچ ویلیو،” اور “شیک-ینگ بلڈ”شیک میں متوقع ہیں۔ مزید برآں، شریک 2015ء میں 20 فیشن کاروباری فورمز اور 20 سے زیادہ فیشن شوز ہوں گے، جو مختلف پہلوؤں سے، کثیر سطحی اور کثیر کارگزاری کی خدمات کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی دوران ملبوساتی کپڑے اور لوازمات کے لیے چین کا بین الاقوامی تجارتی میلہ (انٹرٹیکسٹائل) اور چین کا بین الاقوامی تجارتی میلہ برائے سوت و دھاگہ (یارن ایکسپو) اسی نمائشی مرکز میں شیک 2015ء کے ساتھ ہوں گے۔ تین مشترکہ نمائشیں صنعتوں کو بالائی اور نچلے دھارے پر منسلک کریں گی اور تعاون اور تکمیل کے ایک نئے باب کا آغاز کریں گی۔ تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150304/179483

مزید پڑھیں

جے اے سولر نے 1500 وولٹ پی وی ماڈیول کا اجراء کردیا

شنگھائی، 9 مارچ 2015ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — اعلیٰ کارکردگی کی شمسی توانائی مصنوعات بنانے والے دنیا کے بڑے ساخت گروں میں سے ایک جے اے سولر ہولڈنگز کمپنی لمیٹڈ (نیس ڈیک: JASO) (“جے اے سولر” یا “جے اے”) نے آج اعلان کیا ہے کہ اس نے نئے 1500 وولٹ پی وی ماڈیول کی تیاری مکمل کرلی ہے، جس کا عالمی اجراء فروری 2015ء میں کیا گیا۔ پروڈکٹ 25 فروری کو پی وی ایکسپو جاپان میں پیش کی گئی جہاں اس کا زبردست خیرمقدم کیا گیا۔ نیا ماڈیول متعدد آنے والی نمائشوں میں بھی پیش کیا جائے گا، جس میں مارچ کے اوائل میں لندن میں ہونے والی ایکوبلڈ کانفرنس اور اپریل کے اواخر میں چین میں طے شدہ ایس این ای سی پی وی پاور ایکسپو شامل ہیں۔ زیادہ سے زیادہ سسٹم وولٹیج کے لیے موجودہ آئی ای سی صنعتی معیار سسٹم وولٹیج میلان کا 1000 وولٹ ہے۔ جے اے 1500 وولٹ پی وی ماڈیول سسٹم وولٹیج میلان کے 1500 وولٹ کے لیے آئی ای سی معیارات کے تحت کارکردگی ثابت کرچکا ہے، اور 1500 وولٹ سسٹمز کے معیارات حالات میں پی آئی ڈی کا سخت ترین امتحان پاس کیا ہے۔ ٹی یو وی کی جانب سے ثابت شدہ اور مستند یہ کارکردگی اس نئی پروڈکٹ کے اعلیٰ معیار کا ثبوت ہے۔ جناب یونگ لیو، چیف ٹیکنالوجی آفیسر جے اے سولر نے تبصرہ کیا کہ “زیادہ سے زیادہ سسٹم وولٹیج کو 1500 وولٹ تک بڑھانے کا مطلب اسٹرنگ لمبائی میں 50 فیصد تک ممکنہ اضافہ اور پورے نظام پر اخراجات میں کمی ہے۔ یہ ناگزیر رحجان ہے کہ 1500 وولٹ سسٹمز عالمی پیمانے پر تنصیب کا آغاز کریں گے۔ ہمارے نئے 1500 وولٹ پی وی ماڈیول صنعتی پی وی ٹیکنالوجی میں رہنما کی حیثیت سے حاصل جے اے کی مسابقتی برتری کا ایک اور ثبوت ہیں۔”

مزید پڑھیں

لیکوئی-بکس نے جراثیم سے پاک پیکیجنگ حل پیش کرنے پر تکنیکی جدت کا اعزاز حاصل کرلیا

رچمنڈ، ورجینیا، 5 مارچ 2015ء/ پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — مائع کے لیے لچکدار پیکیجنگ حل پیش کرنے والا معروف ادارہ لیکوئی-بکس فخریہ اعلان کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے اعزاز کا حامل بن گیا ہے جو ان کی جدید لچکدار پیکیجنگ ٹیکنالوجی کے ڈیزائن، تیاری اور پیداوار کی صلاحیتوں کو ثابت کرتا ہے۔ لیکوئی-بکس کو فلیکس ایسپٹ ٹ م بلک فوڈ پیکیج بنانے اور اسے تجارتی پیمانے پر پھیلانے کے لیے تکنیکی جدت طرازی کا سلور ایوارڈ ملا ہے۔ http://photos.prnewswire.com/prnh/20150304/179521 2012ء میں متعارف کروائے گئے فلیکس ایسپٹ ٹ م کی تقسیم دنیا بھر میں جاری ہے۔ فلیکس ایسپٹ ٹ مپیکیج بہتر لچک، حرارت کے خلاف بہتر مزاحمت اور آکسیجن کی منتقلی (او ٹی آر) کی بہتر شرح فراہم کرتا ہے۔ یہ پیکیج پوشال کو کم کرکے، اضافی گرفت دے کر اور ٹوٹنے کی وجہ سے مصنوعات کی خرابی کے امکان سے بچاکر صارفین کو کہیں زیادہ بچت دیتا ہے۔ چند صارفین ٹوٹ پھوٹ سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والی پوشال کو 100 فیصد تک ختم کرنے کے قابل بنے! اعزاز 3 مارچ 2015ء ناپلس، فلوریڈا میں کو رٹز-کارلٹن گالف ریزورٹ میں ہونے والی 2015ء ایف پی اے فلیکس ایبل پیکیجنگ اچیومنٹ ایوارڈز تقریب اور خیرمقدمی عشائیہ کے دوران اور 2014ء ایف پی اے سالانہ اجلاس (3 تا 5 مارچ 2015ء) کے موقع پر دیا گیا۔ فلیکس ایبل پیکیجنگ ایسوسی ایشن (ایف پی اے) نے چھیاسٹھ پیکیجنگ درخواستوں کا معائنہ کیا جو صارفی رحجانات کو مکمل کرتی اور مواد، گرافکس، ڈھانچے اور لچکدار پیکیجنگ حل کامیابی سے تیار کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ انیس پیکیجز کو ایک یا زیادہ زمروں میں تیئس فلیکس ایبل پیکیجنگ اچیومنٹ ایوارڈز سے نوازا گیا جس میں پیکیجنگ کی امتیازی حیثیت، اشاعت اور شیلف اثرات، تکنیکی جدت طرازی اور تحفظ پذیری شامل ہیں۔ لیکوئی-بکس کی مصنوعات اور خدمات کے ابرے میں مزید معلومات ملاحظہ کیجیےwww.liquibox.com ۔ لیکوئی-بکس کے بارے میں لیکوئی-بکسمائع اور نیم-مائع مصنوعات کی فوری، تازہ اور قیمت کے لحاظ سے موثر فراہمی کے لیے تحفظ پذیر پیکیجنگ حل تیار کرنے والا معروف جدت طراز ادارہ ہے۔ لیکوئی-بکس بیگ-ان-بکس لچکدار پیکیجنگ اور تھیلے تیار کرتا ہے جو وسیع اقسام کی صنعتوں کو خدمات دیتے ہیں، جیسا کہ عالمی دودھ کی مصنوعات، مشروبات اور بڑے پیمانے پر خوراک پیش کرنے والی مارکیٹیں۔ ایپلی کیشنز  میں فاؤنٹین بیوریج سیرپ، ملک شیک مکس، کافی مشروبات، کنسٹریٹ اور ساسز جیسی پمپ کیے جانے کے قابل مایع خوراک اور ساتھ ساتھ وہ بھی جو کھانے کی چیزیں نہیں ہیں جیسا کہ تیل اور رنگ۔ لیکوئی-بکسصنعت میں بھرنے کے تیز رفتار آلات پیش کرتا ہے، ساتھ ساتھ قابل استعمال پیکیجنگ، جیسا کہ فلم سبسٹریٹس، فٹمنٹ کےحامل بیگ اور تھیلے۔ لیکوئی-بکس ہیوسٹن میں قائم ایک درمیانی مارکیٹ کے نجی ایکوئٹی ادارے اسٹرلنگ گروپ کا پورٹ فولیو ادارہ ہے؛ جو پیکیجنگ کو بہتر بنانے اور بڑھانے اور دیگر صنعتی کاروباروں میں 30 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھتا ہے۔  رابطہ: پال کیس وی پی، مارکیٹنگ و اسٹریٹجی [email protected] 1.804.433.3834+

مزید پڑھیں

ریکارڈنگ آرٹسٹ سر آئیون نے دھونس و دھمکی کے خلاف کوششوں کی مدد کے لیے نیا ترانہ جاری کردیا، ایک 100,000 ڈالرز بھی دینے کا اعلان

نیویارک، 5 مارچ 2015ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکیستان — پوپ ریکارڈنگ گلوکار اور انسان دوست سر آئیون نے پیس مین فاؤنڈیشن کی دھونس و دھمکی کے خلاف مہم کی مدد کے لیے نیا واحد گانا بعنوان “کس آل دی بلیز گڈبائے” جاری کردیا ہے۔ یہ گانا پال اوکن فولڈ کی جانب سے پیش کیا گیا ہے اور اس میں چارٹ کی سرفہرست گلوکارہ ٹیلر ڈین کی آواز اور ایسے اشعار شامل ہیں جو دھونس و دھمکی کی مذمت کرتے ہیں اور مختلف ہونے اور برداشت کرنے پر لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ سر آئیون ایرک وائٹ (راین مرفی کا دی گلی پروجیکٹ) کی ہدایت یافتہ ایک موسیقی وڈیو بھی ساتھ ہی جاری کرچکے ہیں۔ آنٹرایکٹو ملٹی میڈیا خبری اعلامیہ کا تجربہ یہاں اٹھائیں: http://www.multivu.com/players/English/7456551-sir-ivan-anti-bullying-anthem/ تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150303/179367 سرآئيون، جو 1960ء اور 70ء کی دہائی کے پوپ-ڈانس ری میکس بنانے کے لیے شہرت رکھتے ہیں، جن میں “امیجن،” “سان فرانسسکو،”اور “لو فور ٹوڈے،” بھی شامل ہیں، تشدد اور عدم برداشت کے سخت نکتہ چیں ہیں، جو پیس مین کے فرضی نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ دی پیس مین فاؤنڈیشن کو 2005ء میں سر آئیون نے ایک غیر منافع بخش ادارے کی حیثیت سے قائم کیا تھا جو نفرت، تشدد اور بعد از سانحہ ذہنی تناؤ کے مرض (پی ٹی ایس ڈی) کے خلاف جنگ کرتا ہے۔ اس گانے کے اجراء کے موقع پر سر آئیون نے دی پیس مین فاؤنڈیشن کے ذریعے دس کلیدی غیر منافع بخش اداروں کو کل 100,000 ڈالرز عطیہ کرنے کا عہد کیا ہے جو دھونس و دھمکی اور عدم برداشت کے خلاف جنگ کررہے ہیں، ان میں شامل ہیں: دی اٹ گیٹس بیٹر پروجیکٹ؛ دی گے، لیسبیئن اینڈ اسٹریٹ ایجوکیشنل نیٹ ورک (جی ایل ایس ای این)؛ دی بورن دس وے فاؤنڈیشن؛ پیسرز نیشنل بلیئنگ پریوینشن سینٹر؛ پیرنٹس اینڈ فرینڈز آف لیسبیئنز اینڈ گیز (پی ایف ایل اے جی)؛ اسٹمپ آؤٹ بلیئنگ؛ کیمپس پرائیڈ؛ لو از لاؤڈر/دی جیڈ فاؤنڈیشن؛ دی ٹریور پروجیکٹ اور دی اینٹی-ڈی فیمیشن لیگ۔ عطیات میں وڈیو دیکھنے، گانے کی اسٹریمز اور “کس آل دی بلیز گڈبائے” کے ڈاؤنلوڈ سے ہونے والی خالص آمدنی شامل ہوگی۔ سر آئیون نے کہا کہ “ہولوکاسٹ میں بچنے والے کی اولاد کی حیثیت سے، میں ہمیشہ ان افراد کا پشت بان رہا ہوں جنہیں اذیت اور جبر سے گزرنا پڑتا ہے۔ میں اس تکلیف کے شعور کے ساتھ پروان چڑھا جو مختلف ہونے کی وجہ سے محسوس ہوتی ہے۔ اپنی موسیقی اور اثرورسوخ کے ذریعے، میں قبولیت اور سوجھ بوجھ کی اہمیت ظاہر کرنا چاہوں گا۔ نوجوان، خاص طور پر ایل جی بی ٹی، بسا اوقات کفالت و سہارے کی کمی کا سامنا کرتے ہیں اور ہراساں کیے جانے یا دھمکانے کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں، اور میں، انفرادی حیثیت میں، اسے قبول نہیں کروں گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ لوگ اس ناانصافی کے خلاف میرا ساتھ دیں گے۔ دھونس و دھمکی کے خلاف انجمنیں ایل جی بی ٹی نوجوانوں کو سہارا دینے والی اہم خدمات فراہم کرتی ہیں تاکہ وہ انہیں خودکشی سے بچنے میں مدد دیں اور نوجوانوں کو اس بات

مزید پڑھیں

پال جی ایلن نے دوسری جنگ عظیم میں غرق ہونے والے جاپانی جنگی بحری جہاز موساشی کا پتہ لگا لیا

لپائنز، 4 مارچ 2015ء/پی آرنیوزوائر/ایشیانیٹ پاکستان — انسان دوست شخصیت اور کاروباری منتظم پال جی ایلن نے بحریہ کی تاریخ کے دو سب سے بڑے اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے جدید ترین بحری جنگی جہازوں میں سے ایک موساشی کا پتہ لگا لیا ہے۔ یہ سال دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے 70 سال مکمل ہونے کا ہے، اور اس بحری جہاز کی تلاش بحری تاریخ کے سرگزشت میں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20150304/179451 تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20150304/179452 جناب ایلن اور ان کی محققین کی ٹیم نے آٹھ سال سے بھی پہلے موساشی کی تلاش شروع کی تھی۔ چار ممالک کے تاریخی ریکارڈز، زیر سمندر تفصیلی مقام نگاری کے ڈیٹا اور اپنی کشتی، ایم/وائے اوکٹوپس، پر نصب جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے جناب ایلن اور ان کی ٹیم نے یکم مارچ 2015ء کو بحیرۂ سبویان میں بحری جہاز کا پتہ چلایا۔ عینی شاہدین کے متعدد بیانات کے باوجود جہاز کا درست مقام معلوم نہیں تھا۔ جناب ایلن نے ایک مقام نگاری کے اندازے کے لیے فرشِ سمندر کے ہپسومیٹرک بیتھی میٹرک جائزے کا حکم دیا۔ یہ ڈیٹا تلاش کرنے والی ٹیموں کے لیے بڑے علاقوں کے اخراج میں استعمال کیا گیا تھا اور بحیرۂ سبویان کی سطح کی پانچ نئی جغرافیائی خصوصیات پر منتج ہوا۔ فروری 2015ء میں ٹیم نے بلوفن-12 خودمختار زیر آب گاڑی (اے یو وی) استعمال کرتے ہوئے تلاش کا حتمی مرحلہ شروع کیا۔ کیونکہ تلاش کا علاقہ جائزے کی وجہ سے بہت مختصر ہوچکا تھا، اس لیے اے یو وی نے صرف تیسرے غوطے میں ہی موساشی کا ملبہ تلاش کرلیا۔ ایک ہائی-ڈیفی نیشن کیمرے سے لیس ریموٹ کے ذریعے چلائی جانے والی گاڑی (آر او وی) نے موساشی کے ملبے کی شناخت کی تصدیق کی۔ جناب ایلن نے کہا کہ “اپنی نوجوانی سے میں دوسری جنگ عظیم کی تاریخ کا بہت گرویدہ تھا، اور امریکی بری افواج میں اپنی والد کی خدمات سے متاثر تھا۔ موساشی حقیقتاً انجینئرنگ کا ایک شاہکار تھا، اور دل کی گہرائیوں سے ایک انجینئر ہونے کی حیثیت سے، میں اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اور کوششوں سے بہت متاثر ہوا۔ مجھے بحری تاریخ کے اس اہم جہاز کی تلاش کا حصہ بننے پر فخر ہے اور اس جہاز پر خدمات انجام دینے والے فوجیوں کی ناقابل فراموش بہادری کا احترام کرتا ہوں۔” 1942ء میں مکمل ہونے والا موساشی بحری تاریخ کا سب سے بڑا جہاز تھا، جس کا مکمل وزن 73,000 ٹن تھا۔ اس میں 18 انچ کی زرہ بکتر تھی اور یہ 18 انچ کی نو گنوں سے لیس تھا، جو کسی بھی جنگی جہاز بھی لگائی گئی سب سے بڑی تھیں۔ تعمیر کے دوران ناگاساکی کے جہاز سازی کے کارخانے میں انتہائی رازداری سے کام کیا گیا تھا؛ جہاز کی کل لمبائی کو نظر سے پوشیدہ رکھا گیا تھا تاکہ اس کی تعمیر سے اتحادی افواج کو کچھ سیکھنے سے روکا جائے۔ معرکہ بحیرۂ فلپائن سمیت متعدد جنگوں میں حصہ لینے والا موساشی بالآخر 24 اکتوبر 1944ء کو کو معرکہ خلیج لیتے سے قبل تقریباً 19 تارپیڈو اور 17 بموں کے ہاتھوں ڈوبا۔

مزید پڑھیں