لندن/کراچی (پی پی آئی)پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت جنگی بحری جہاز ’پی این ایس طارق‘ برطانیہ کے سپرد کر دیا۔پاک بحریہ نے حکومتی منظوری کے بعد سابق جنگی بحری جہاز پی این ایس طارق برطانیہ کے حوالے کیا۔پی پی آئی کے مطابق اس حوالے سے پاک بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پی این ایس طارق کی حوالگی کی تقریب لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں منعقد ہوئی، جس کے مہمان خصوصی نیول چیف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی تھے۔ترجمان پاک بحریہ کے مطابق برطانیہ نے پاکستان سے ایمیزون یا طارق کلاس ٹائپ21 جنگی جہاز کی حوالگی کی استدعا کی تھی۔برطانیہ پاکستان سے جہاز حاصل کر کے فالک لینڈ جنگ کی یادگار کے طور پر رکھنا چاہتا ہے، جہاز گلاسگو کے کلائیڈ میری ٹائم ہیری ٹیج سینٹر میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔یہ جہاز پاک بحریہ کی جانب سے 4 اگست 2023ء کو ڈی کمیشنڈ کر دیا گیا تھا۔ سابق پی این ایس طارق تاریخی اہمیت کا حامل ہے، اس جہاز نے 1993میں پی این ایس طارق کے طور پر پاک بحریہ میں ضم ہونے سے پہلے دو دہائیوں تک رائل نیوی میں بطور HMS AMBUSCADE خدمات انجام دیں اور فالک لینڈز جنگ میں بھی حصہ لیا۔تین دہائیوں سے زائد عرصے میں پاک بحریہ میں اس جہاز نے اپنی خاص صلاحیتوں کی وجہ سے اپنا سکہ منوایا۔اس جہاز نے مالدیپ میں 2005 کے سونامی کے دوران امدادی مہم میں اہم کردار ادا کیا جس سے مختلف ملکوں کے 377 سیاحوں کی جانیں بچائی گئیں۔
سابق کرکٹر جیک کیلس کی اعزاز میں تقریب منعقد ہوگی
فیفا ورلڈ کپ 2014کی ٹرافی عالمی سفر کے دوران اٹلی میں پہنچ گئی
کوئنٹن ڈی کوک کا جنوبی افریقاکرکٹ ٹیم کی ٹیسٹ کیپ مل گئی
ورلڈ ٹی 20کیلئے ٹیم میں شمولیت پر انتہائی خوش ہوں : مارٹن گپٹل
خیبر پختونخواہ اور دہلی کرکٹ ایسوسی ایشن کے درمیان سیریز کا معاہدہ
ناراض اولمپئنز کو منانے کیلئے پی ایچ ایف نے تین رکنی مفاہمتی کمیٹی قائم کردی
تازہ ترین خبریں
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ
پاکستان کے پہلے رومانوی ہیرو سنتوش کمار کی میراث کا جشن
پاسپورٹ کی گھر کی دہلیز تک فراہمی کے منصوبے پر نمایاں پیش رفت
- April 25, 2026
- April 23, 2026
- April 07, 2026
اشتہار
تازہ ترین
شہر قائد کے کئی علاْقوں میں سڑکیں دھنسنے سے ٹریفک جام رہنے لگا
کراچی (پی پی آئی) کراچی میں غیر معیاری ترقیاتی کاموں کے ثبوت سامنے آنے لگے ہیں اور شہر قائد کے کئی علاْقوں میں سڑکیں دھنسنے کو واقعات سامنے آئے ہیں۔پی پی آئی کے مطابق شارع فیصل نرسری کے قریب سروس روڈ پر گہرا گڑھا پڑنے سے ٹرالر اس میں دھنس گیا۔سڑک پر 5 سے 6 فٹ کا گڑھا پڑنے سے سروس روڈ بند ہو گئی جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔مز۔اسی طرح گرو مندر سے پیپلز چورنگی جانے والی سڑک پر بلدیہ آفس کے سامنے چار سے پانچ گز سڑک دھنسنے سے اسلامیہ کالج کی سمت جانے والوں کو طویل روٹ اختیار کر نا پڑ رہا ہے اور جگر مراد آبادی روڈ کی گھوڑا چورنگی پر صبح اور شام کے اوقات میں ٹریفک بھی جام رہتا ہے۔
حق دو تحریک کا مطالبات پورا نہ ہونے کی صورت میں ’مسلح جدوجہد‘ کا عندیہ
کوئٹہ (پی پی آئی)حق دو تحریک کے چیئرمین مولانا ہدایت الرحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ اگر گوادر کے مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو وہ مسلح جدوجہد شروع کرنے میں ہچکچائیں گے نہیں۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ جن مطالبات کی وجہ سے انہوں نے گوادر میں طویل دھرنے دیے، اب تک وہ مسائل حل نہیں ہوسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ٹرالر مافیا‘ صوبے کے ساحلوں میں کام کر رہا ہے، جس کی وجہ سے مقامی مچھیروں کے روزگار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ہدایت الرحمٰن نے جوجماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکریٹری بھی ہیں اس بات پر زور دیا کہ فشریز اور دیگر اہم اتھارٹیز کی موجودگی کے با وجود یہ صورتحال جاری ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کی پْرامن کوششوں کو نظر انداز کیا گیا تو وہ ’مسلح جدوجہد‘ کا سہارا لیں گے۔مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے گوادر کے تقریبا 9 اضلاع اور دیگر شہروں میں پْرامن دھرنے دیے، جن کا مقصد ان ٹرالر مافیا کو بلوچستان کے سمندروں سے دور کرنا، اسمگلنگ کی روک تھام، غیر ضروری چوکیوں کا خاتمہ اور دوسرے اہم مسائل کی طرف متوجہ مرکوز کرانا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ عبد القدوس بزنجو نے معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ ٹرالر مافیا کو صوبے کے ساحلوں کو استعمال کرنے سے روکیں گے اور غیر ضروری چیک پوسٹس کا خاتمہ کروائیں گے لیکن تاحال اس معاہدے پر کوئی عمل در آمد نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم آئینی حدود میں رہ کر اپنی پْرامن کوششیں جاری رکھیں گے کیونکہ اس کا تعلق مقامی آبادی کی بقا سے ہے۔مولانا ہدایت الرحمٰن کے مطابق انہوں نے مطالبات سے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اور وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کو آگاہ کردیا ہے لیکن بدقسمتی سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ سابق اور موجودہ دونوں حکومتوں نے ٹرالر مافیا سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور محکمہ فشریز پر ہر ٹرالر سے رشوت لینے کا الزام عائد کیا۔
ای او بی آئی کووفاقی حکومت کی میچنگ گرانٹ نہ ملنے سے کئی کھرب روپے خسارہ کا سامنا
کراچی (پی پی آئی)وفاقی حکومت کی جانب سے ای او بی آئی کو1995سے میچنگ گرانٹ کی بندش کے باعث پنشن فنڈ کو کئی کھرب روپے کے خسارہ کا سامنا ہے، آایکچوریل ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ ہوئی تقو مستقبل میں پنشن فنڈ ختم ہونے کا خدشہ ہے، نجی شعبہ کے ملازمین کو ریٹائرمنٹ، معذوری اور ان کی وفات کی صورت میں ان کے پسماندگان کو تاحیات پنشن فراہم کرنے والے قومی ادارہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن کو درپیش مالی مسائلمیں 1995سے وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والی میچنگ گرانٹ کی بندش سر فہرست ہے جبکہ آجران کی اکثریت کی جانب سے اپنے اداروں اور ملازمین کی رجسٹریشن سے ہر ممکن بچنے کی پالیسی اور قلیل تعداد میں رجسٹرڈ آجران کی جانب سے موجودہ کم از کم اجرت کے بجائے پرانی شرح سے کنٹری بیوشن کی ادائیگی کے باعث ای او بی آئی پنشن فنڈ کو دو کھرب روپے سے زائد کے خسارہ کا سامنا ہے۔پی پی آئی کے مطابق ای او بی آئی کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے ادارہ کے سابق افسر تعلقات عامہ اور ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ پاکستان، اسرار ایوبی نے کہا کہ ضعیف العمر ملازمین فوائد ایکٹ مجریہ 1976کے مطابق وفاقی حکومت ای او بی آئی کی جانب سے رجسٹرڈ آجران کی جانب سے وصول کردہ سالانہ کنٹری بیوشن کے مساوی رقم سالانہ میچنگ گرانٹ کے طور پر باقاعدگی سے فراہم کیا کرتی تھی۔ لیکن 1995میں اچانک ایک فنانس بل کے ذریعہ یہ میچنگ گرانٹ بند کردی گئی اور اب وفاقی حکومت ای او بی آئی کو دکھاوے کے طور پر محض ایک لاکھ روپے سالانہ میچنگ گرانٹ ادا کر رہی ہے جو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔ اسرار ایوبی نے مزید بتایا کہ قانون کے مطابق ہر تین برس کے وقفہ کے بعد ای او بی آئی کے واجبات اور اثاثہ جات کی ایکچوریل ویلیویشن کرانا لازمی ہے۔ جس کے بغیر کنٹری بیوشن اور پنشن کی شرح میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا 30 جون 2022ء میں ای او بی آئی کے واجبات اور اثاثہ جات کی گیارہویں تخمینہ کاری کرائی گئی تھی۔ جس کی رپورٹ میں ایکچوریل ماہرین نے پنشن فنڈ میں 2.517 کھرب روپے کے خسارہ کا انکشاف کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ای او بی آئی کے بیمہ دار افراد کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور ای او بی آئی پر مستقبل کے لاکھوں پنشنرز کی پنشن کی ادائیگی کی قانونی ذمہ داری 2.965 کھرب روپے بنتی ہے جبکہ اس وقت پنشن فنڈ کی ویلیو صرف 0.448 کھرب روپے بتائی گئی ہے۔ ایکچوریل ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ماہانہ کنٹری بیوشن کی موجودہ شرح 6 فیصد مستقبل میں بھی برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ آئندہ پانچ تا دس برسوں کے دوران پنشن فنڈ میں کمی واقع ہونا شروع ہوجائے گی اور آئندہ گیارہ تا سولہ برسوں کے دوران پنشن فنڈ کے مکمل خاتمہ کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر برائے سمندرپار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل حکومت پاکستان ساجد حسین طوری نے بھی 27 جولائی 2022 کو قومی اسمبلی میں دیئے گئے اپنے بیان میں 2033 میں پنشن فنڈ میں کمی واقع ہونے اور 2039 میں اس کے مکمل خاتمہ کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔اسرار ایوبی نے موجودہ محدود پنشن منصوبہ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اسے ہمہ گیر شکل دے کر 18 برس کی عمر کے ہر برسر روزگار پاکستانی، ذاتی کام کے حامل شہریوں، غیر منظم شعبہ سے وابستہ اور ہوم بیسڈ کارکنوں کی پنشن منصوبہ میں ازخود رجسٹریشن اور ازخود کنٹری بیوشن کی ادائیگی کے لئے یونیورسل نظام متعارف کرایا جائے اور لاکھوں ملازمین کے ای او بی آئی پنشن فنڈ کے استحکام کے لئے ماہانہ کنٹری بیوشن کی موجودہ شرح 6 فیصد ماہانہ میں اضافہ کرکے 10 فیصد کیا جائے جس میں آجر کا حصہ 8 فیصد اور ملازم کا حصہ 2 فیصد مقرر کیا جائے اور اپنے تمام ملازمین کی رجسٹریشن نہ کرانے والے اور کنٹری بیوشن کے نادہندہ آجران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
تلاش کریں
خبریں

سابق کرکٹر جیک کیلس کی اعزاز میں تقریب منعقد ہوگی
کیپ ٹاﺅن: سابق جنوبی افریقی آل راﺅنڈ ر جیک کیلس کی خدمات کے اعتراف میں تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔ اعزازی تقریب آسٹریلیا کے خلاف کیپ ٹاﺅن ٹیسٹ کے دوسرے دن جنوبی افریقا کے وزیر کھیل فیکل مابلولا کی جانب سے سجائی جائے گی اور سابق کھلاڑی کو بھر پور طریقے سے خراج تحسین پیش کیا جائے گا ۔

فیفا ورلڈ کپ 2014کی ٹرافی عالمی سفر کے دوران اٹلی میں پہنچ گئی
روم: فیفا ورلڈ کپ 2014کی ٹرافی عالمی سفر کے دوران اٹلی میں پہنچ گئی ۔دلکش رنگوں سے سجا جہاز 9ماہ طویل ورلڈ ٹور کے دوران ٹرافی کو فیفا کے تمام 6کنفیڈریشنز میں لے کر جارہا ہے ۔ جہاز کا استقبال کرنے والوں میں اے سی میلان کے مڈفیلڈر گیناروگاٹوسو بھی شامل تھے جو 2006کے فیفا ورلڈ کپ کی فاتح اطالوی ٹیم کے اہم کھلاڑی تھے۔

کوئنٹن ڈی کوک کا جنوبی افریقاکرکٹ ٹیم کی ٹیسٹ کیپ مل گئی
پورٹ الزبتھ: جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے نوجوان وکٹ کیپر بلے باز کوئنٹن ڈی کو ک کو ٹیسٹ کیپ مل گئی ۔ ڈی کوک جنوبی افریقا کی طرف سے ٹیسٹ کیپ حاصل کرنے والے 317ویں کھلاڑی بن گئے ۔ ڈی کوک کو اوپننگ بلے باز الویرو پیٹرسن کی جگہ ٹیم میں طلب کیا گیا ہے جو کہ وائرل انفیکشن میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ ڈی کوک اس سے قبل 16ایک روزہ میچ اور10ٹی 20میچوں میں جنوبی افریقا کی نمائندگی کرچکے ہیں ۔

ورلڈ ٹی 20کیلئے ٹیم میں شمولیت پر انتہائی خوش ہوں : مارٹن گپٹل
آکلینڈ: نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے بلے باز مارٹن گپٹل نے ورلڈ کپ ٹی 20کیلئے ٹیم میں شمولیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ورلڈ کپ میں سلیکشن کمیٹی کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ سلیکشن کمیٹی نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور وہ اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے ۔اور نیوزی لینڈ کی کامیابی میں اپنے بھرپور کردار ادارکریں گے ۔

خیبر پختونخواہ اور دہلی کرکٹ ایسوسی ایشن کے درمیان سیریز کا معاہدہ
نئی دہلی: خیبر پختونخواہ کی حکومت اور دہلی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن کے درمیان ایک معاہدہ طے پاگیا جس کے تحت پشاور اور دہلی کی کرکٹ ٹیمیں ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کرسکیں گی ۔معاہدے پر دستخط کی تقریب دہلی میں ہوئی ۔خیبر پختونخواہ کے صوبائی وزیر محمود خان اور دہلی کرکٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے مسٹر پردیپ کمار اگروال نے معاہدے پر دستخط کیے ۔بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر سلمان بشیر ،انڈین کرکٹ بورڈ کے نائب صدر بھی اس موقع پر موجودتھے ۔ معاہدے کے مطابق رواں سال پشاور کی ٹیم دوستانہ میچ کھیلنے کے لئے دہلی کا دورہ کرے اور آئندہ سال دہلی کرکٹ ٹیم خیبر پختونخواہ کے دورے پر آئے گی ۔

ناراض اولمپئنز کو منانے کیلئے پی ایچ ایف نے تین رکنی مفاہمتی کمیٹی قائم کردی
لاہور: پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اختر رسول نے سابق اولمپئنز پر مشتمل 3رکنی مفاہمتی کمیٹی تشکیل کردی ۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی پی ایچ ایف سے ناراض سابق اولمپئنز سے ملاقات کرکے انہیں قومی دھارے میں واپس لانے کی کوشش کرے گی تاکہ قومی کھیل کی بہتری کے لئے سب مل کر کام کرسکیں ۔ کمیٹی میں لیفٹیننٹ کرنل (ر) ظفر علی خان ،خواجہ ذکاءالدین اورافتخار سید شامل ہیں ۔