Deprecated: "SimplePie\SimplePie::set_content_type_sniffer_class()" is deprecated since SimplePie 1.3, please use "SimplePie\SimplePie::get_registry()" instead. in /home/bentrib/public_html/ppinewsagency.com/urdu/wp-includes/SimplePie/src/SimplePie.php on line 1343

Deprecated: "SimplePie\SimplePie::set_file_class()" is deprecated since SimplePie 1.3, please use "SimplePie\SimplePie::get_registry()" instead. in /home/bentrib/public_html/ppinewsagency.com/urdu/wp-includes/SimplePie/src/SimplePie.php on line 1167

Deprecated: "SimplePie\SimplePie::set_parser_class()" is deprecated since SimplePie 1.3, please use "SimplePie\SimplePie::get_registry()" instead. in /home/bentrib/public_html/ppinewsagency.com/urdu/wp-includes/SimplePie/src/SimplePie.php on line 1151

Deprecated: "SimplePie\SimplePie::set_item_class()" is deprecated since SimplePie 1.3, please use "SimplePie\SimplePie::get_registry()" instead. in /home/bentrib/public_html/ppinewsagency.com/urdu/wp-includes/SimplePie/src/SimplePie.php on line 1199

Deprecated: "SimplePie\SimplePie::set_content_type_sniffer_class()" is deprecated since SimplePie 1.3, please use "SimplePie\SimplePie::get_registry()" instead. in /home/bentrib/public_html/ppinewsagency.com/urdu/wp-includes/SimplePie/src/SimplePie.php on line 1343

Deprecated: "SimplePie\SimplePie::set_file_class()" is deprecated since SimplePie 1.3, please use "SimplePie\SimplePie::get_registry()" instead. in /home/bentrib/public_html/ppinewsagency.com/urdu/wp-includes/SimplePie/src/SimplePie.php on line 1167

Deprecated: "SimplePie\SimplePie::set_parser_class()" is deprecated since SimplePie 1.3, please use "SimplePie\SimplePie::get_registry()" instead. in /home/bentrib/public_html/ppinewsagency.com/urdu/wp-includes/SimplePie/src/SimplePie.php on line 1151

Deprecated: "SimplePie\SimplePie::set_item_class()" is deprecated since SimplePie 1.3, please use "SimplePie\SimplePie::get_registry()" instead. in /home/bentrib/public_html/ppinewsagency.com/urdu/wp-includes/SimplePie/src/SimplePie.php on line 1199
Page 6812 – پاکستان پریس انٹرنیشنل- اردو سروس

ای ٹی سولر سی ای ایف سی سرمایہ کاری کے ساتھ آسٹریلیا میں کمرشل پی پی اے مارکیٹ بنائے گا

گرمیاں شروع ہوتے ہی اے پی آر انرجی کا آسٹریلوی پلانٹ شروع

ای ٹی سولر اور ٹیک ایکسس کا پاکستان میں 2 یوٹیلٹی پی وی پاور منصوبوں میں تعاون

بی سی بی جی میکس ایزریا گروپ، ایل ایل سی کی اپنے سرمایہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل نو اور استحکام اور نئی سرمایہ کاری

آئی بی ایم نے عالمی تحقیقاتی نیٹ ورک کو جنوبی افریقہ تک پھیلا دیا

میلہ بہاراں کے لیے یونین پے انٹرنیشنل کی عالمی خصوصی پیشکشیں جاری

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تلاش کریں

ای ٹی سولر سی ای ایف سی سرمایہ کاری کے ساتھ آسٹریلیا میں کمرشل پی پی اے مارکیٹ بنائے گا

سڈنی، 12 فروری 2015ء/ پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ باکستان — ای ٹی سولر انرجی کارپوریشن (“ای ٹی سولر”) نے اعلان کیا ہے کہ اس کے ماتحت ادارے ای ٹی سولر آسٹریلیا پرائیوٹ لمیٹڈ نے آسٹریلیا کی کمرشل شمسی مارکیٹ میں اپنے کاروبار کی ترقی کے لیے کلین انرجی فنانس کارپوریشن (“سی ای ایف سی”) کے ساتھ 20 ملین آسٹریلوی ڈالرزکی ڈیٹ فنانسنگ تنصیب کا معاہدہ کرلیا ہے۔ ای ٹی سولر ایکوئٹی میں 13.3 ملین آسٹریلوی ڈالرز تک فراہم کرے گا، جبکہ سی ای ایف سی بڑے قرضے میں 20 ملین آسٹریلوی ڈالرز تک دے گا، جو کمرشل پاور پرچیز ایگریمنٹ (“پی پی اے”) سے چلنے والے شمسی منصوبوں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے۔ یہ قرضہ شمسی نظاموں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہوگا اور اس کی ملکیت ای ٹی سولر حاصل کرے گا۔ ان کوششوں میں ای ٹی سولر 30 کلو وواٹ اور 2 میگاواٹ کے درمیان کے حجم کے شمسی نظاموں کی ملکیت حاصل کرے اور انہیں چلائے گا جو شاپنگ سینٹروں، کان کنی اور ساخت گری کے کاروباروں سمیت متعدد تجارتی صارفین کو بجلی کا خریدار بنائے گا۔ یہ تجارتی بجلی صارفین ای ٹی سولر کے ساتھ پہلے سے طے شدہ نرخوں پر 10 سے 20 سال کے عرصے کے لیے پی پی ایز کے معاہدے کریں گے تاکہ کم خرچ سے فائدہ اٹھایا جا سکے تاکہ پی پی اے کی قیمتیں موجودہ بجلی کے نرخوں سے کافی حد تک کم ہوتی ہیں۔ “پی پی اے ماڈل عالمی بنیادوں پر بہت کامیاب ثابت ہوچکا ہے۔ اور خاص طور پر آسٹریلیا میں کمرشل پی پی اے مارکیٹ بڑھنے اور جڑیں مضبوط کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتی ہے،” سی ای ایف سی سی ای او اولیو ییٹس نے کہا۔ “ہم ای ٹی شمسی کمرشل پی پی اے نمونے کو واضح سرمائے کی ضرورت کی رکاوٹ کو دور کرنے والا سمجھتے ہیں جو کئی آسٹریلوی اداروں کو کم خرچ اور ماحول دوست شمسی توانائی استعمال کرنے کے قابل بنائے گا۔” “ہم نے گزشتہ سال اپنے آسٹریلوی ماتحت ادارے کو اس زبردست مارکیٹ میں اپنے حل پیش کرنے والے کاروبار کی حیثیت سے بنایا۔ ڈینس شی، صدر اور سی ای او ای ٹی سولر نے کہا۔ “سی ای ایف سی کی سرمایہ کاری ای ٹی سولر کے پی پی اے نمونے کے اجراء میں بہت سہولت دے گی اور مقامی کمرشل شعبوں کو اپنے بجلی کے اخراجات کم کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔” ای ٹی سولر پی وی سسٹمز کے معروف معیارات کو یقینی بناتا ہے، اور انتہائی معیاری مقامی تقسیم کار اور تسلیم شدہ تنصیب کاروں سے شراکت داری کرتا ہے تاکہ آسٹریلیا میں ہر قسم کےکاروباروں کے لیے حل فراہم کیے جائیں۔ یہ ایک پائلٹ کمرشل پی پی اے منصوبے کا حامل ہے جو پہلے ہی کوئنزلینڈ میں جاری ہے، جبکہ ایسے ہی منصوبے ملک کے دیگر علاقوں میں بنائے جا رہے ہیں۔ سی ای ایف سی کے بارے میں کلین انرجی فنانس کارپوریشن (سی ای ایف سی) مارکیٹ رکاوٹوں کو عبور کرنے اور قابل تجدید توانائی، توانائی موثریت اور کم اخراج کی ٹیکنالوجیوں سرمایہ کاری

مزید پڑھیں

گرمیاں شروع ہوتے ہی اے پی آر انرجی کا آسٹریلوی پلانٹ شروع

جیکسن ول، فلوریڈا، 12 فروری 2015ء/ پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — بڑے پیمانے پر اور تیز رفتاری سے بجلی فراہم کرنے کے عالمی رہنما ادارے اے پی آر انرجی نے آج اعلان کیا ہے کہ اس نے پورٹ ہیڈلینڈ، پلبارا، مغربی آسٹریلیا میں اپنے متحرک گیس ٹربائن پاور پلانٹ کی باضابطہ اجازت حاصل کرلی ہے۔ پلانٹ چار جدید جی ای ٹی ایم 2500+ ایرو-ڈیریویٹو ٹربائنز رکھتا ہے جو صاف طور پر جلنے والی قدرتی گیس سے چلتے ہیں۔ جیسے ہی گنجائش کی ضروریات بڑھیں گی تنصیب کو فوری طور پر دو اضافی ٹربائنز تک توسیع دی جا سکتی ہے۔ تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150211/175074 لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20120207/FL48583LOGO آسٹریلیا معدنی صنعت کے مرکز میں واقع یہ پلانٹ ریاستی ادارے ہورائزن پاور کو بجلی فراہم کرتا ہے، جو 100,000 سے زیادہ مکینوں اور 10,000 سے زیادہ کاروباری اداروں اور بڑے صنعتی صارفین کے لیے خدمات فراہم کرتا ہے۔ پلانٹ، جو 2014ء کے اواخر میں شروع ہوا، 2017ء کی دوسری سہ ماہی تک چلے گا اور برجنگ حل کے طور پر کام کرتا ہے جبکہ ٹرانس الٹا (آسٹریلیا) ایک مستقل پاور پلانٹ تیار کرتا ہے، جو 2017ء کے اوائل میں مکمل ہونا متوقع ہے۔ پلانٹ مغربی آسٹریلیا کے انتہائی سخت موسم کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جہاں درجہ حرارت 48 درجہ سینٹی گریڈ (118 درجے فارن ہائیٹ) تک پہنچ جاتا ہے۔ پروجیکٹ اے پی آر انرجی کی ایشیا بحر الکاہل میں بڑھتی ہوئی موجودگی میں اضافہ کرتا ہے، جو خطے میں اس کی پیداواری صلاحیت کو 410 میگاواٹ تک پہنچا رہا ہے۔ اے پی آر انرجی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کلائیو ٹرٹن نے کہا کہ “ہم اپنے پلانٹ کے جلد اور بروقت آغاز پر بہت خوش ہیں، جو گرمی کے مہینوں میں بجلی کی اضافی طلب کو پورا کرنے کے لیے ہورائزن پاور کی بروقت مدد کرے گا۔ ہمارے متحرک ٹربائن پاور پلانٹس مستقل پاور پلانٹس کی تعمیر کے دوران برجنگ حل تلاش کرنے والے افادہ عام کے اداروں کے لیے بہترین ثابت ہو چکے ہیں، اور صارفین کے لیے پسند کی ٹیکنالوجی ہے جو بڑے پیمانے  کے، فوری جاری کرنے والے حل کی ضرورت رکھتے ہیں جو گرڈ میں زبردست استحکام دیں، کم سرمایہ خرچ کریں اور معمولی اخراج کے حامل ہوں۔”  اے پی آر انرجی کے بارے میں اے پی آر انرجی بجلی کے بڑے پیمانے پر اور فوری حل فراہم کرنے والا معروف عالمی ادارہ ہے جو صارفین کو قابل بھروسہ بجلی تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے جہاں بھی اور جیسے بھی ان کو ضرورت ہو۔ اے پی آر جدید، ایندھن موثر ٹیکنالوجی کے ساتھ صنعت کی معروف ترین تجربے کو ملاتا ہے تاکہ ٹرن کی پاور پلانٹس فراہم کیے جائیں جو فوری طور پر فراہم ہوں اور ان میں مرضی کے مطابق تبدیلی اور اضافہ کیا جا سکے۔ افادہ عام اور صنعت دونوں شعبوں کے لیے خدمات انجام دینے والا اے پی آر انرجی دنیا بھر میں صارفین اور آبادیوں کے لیے بجلی کی پیداوار کے حل فراہم کرتا ہے، جس میں اس کا زیادہ زور، افریقہ، امریکین، ایشیا-بحرالکاہل اور مشرق وسطیٰٰ پر ہے۔ مزید معلومات کے لیے ادارے کی

مزید پڑھیں

ای ٹی سولر اور ٹیک ایکسس کا پاکستان میں 2 یوٹیلٹی پی وی پاور منصوبوں میں تعاون

اسلام آباد، پاکستان، 9 فروری 2015ء/ پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — اسمارٹ انرجی کے حل فراہم کرنے والے معروف ادارے ای ٹی سولر انرجی کارپوریشن (“ای ٹی سولر”)  نے پنڈ دادن خان، پنجاب، پاکستان میں 21.5 میگاواٹ کے 2 شمسی توانائی  کے پلانٹ کی تعمیر اور ان میں سرمایہ کاری کے لیے شرکت پر ٹیک ایکسس کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ ای پی سی/ او اینڈ ایم فراہم کنندہ اور چھوٹے سرمایہ کار کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے ای ٹی سولر ٹرن-کی حل فراہم کرے گا جن میں انجینئرنگ اور ڈیزائن، آف-شور آلات کی فراہمی، آن-شور شہری و برقی تعمیر، منصوبے کے آپریشنز اور دیکھ بھال شامل ہیں۔ میدان  پر نصب منصوبے، ایک 11.5 میگاواٹ اور دوسرا 10 میگاواٹ کا، ملک کے شمسی پی وی ٹیرف ڈیٹرمنیشن کے تحت آلٹرنیٹو انرجی ڈیولپمنٹ بورڈ، پاکستان کی جانب سے جنوری 2014ء میں منظور کیے گئے 50 میگاواٹ کے کوٹے میں سب سے پہلے ہیں۔ مزید برآں، یہ پاکستان کی نیشنل الیکٹرانک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے کھلے نرخ نامے کے نظام کے تحت منظور شدہ شمسی منصوبوں میں اولین ہیں۔ “یہ شراکت داری ہمارے لیے ایک بڑے سنگ میل کی علامت ہے جہاں ای ٹی سولر اپنے عالمی معیار کا ای پی سی تجربہ ایسے ملک میں لا رہا ہے جس نے شمسی توانائی پر بس کام شروع ہی کیا ہے۔ پاکستان میں انتظامیہ کی جانب سے شمسی توانائی کی دی جانے والی انتہائی ترجیح، ملک کی اقتصادی ترقی کے امکانات، امن ٹیک ایکسس کی جانب سے زبردست سپورٹ ہمیں مارکیٹ ترقی میں حصہ لینے پر زبردست اعتماد دیتی ہے،” ڈینس شی، صدر اور سی ای اوا ی ٹی سولر نے کہا۔ “اس کے علاوہ،ہم پاکستان میں توانائی کی قلت کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے اور 100 میگاواٹ کے قریب المیعاد ہدف کے لیے آئندہ منصوبوں میں اہم کردار ادا کرنے پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ منصوبے نہ صرف دنیا کے معروف ای پی سی/او اینڈ ایم فراہم کنندہ کی حیثیت سے ہمارے مقام کو مضبوط کریں گے بلکہ ہمارے عالمی آئی پی پی پورٹ فولیو میں بھی اضافہ ہوں گے۔” “ای ٹی سولر کے ساتھ شراکت داری میں ہم ان منصوبوں کے بڑے حصص یافتہ کی حیثیت سے پنجاب میں ماحول دوست شمسی توانائی لانے پر خوش ہیں،” شمیل غالب، سی ای او ٹیک ایکسس نے کہا۔ “نرخ نامے کے تعین کے دوسرے مرحلے کے تحت ہم پاکستان کی پی وی مارکیٹ ترقی کے لیے ایک پراعتماد اور مثبت توقع پیش کرتے ہیں، اور ہماری نظریں آئندہ ایک دو سالوں میں 25 میگاواٹ کے مزید 3 سولر پی وی منصوبوں کی تعمیر میں حصہ اور سرمایہ کاری پر ہیں۔” ای ٹی سولر کے بارے میں ای ٹی سولر ایک معروف اسمارٹ انرجی حل فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔ جدید شمسی ٹیکنالوجیوں اور خصوصی مالیاتی حلوں کے ساتھ ای ٹی سولر  شمسی توانائی پلانٹ کے حیاتی چکر کے لیے ایک ہی مقام پر تمام پیشہ ورانہ حل فراہم کرتا ہے جن میں پیشرفت، سرمایہ کاری، انجینئرنگ، حصول، تعمیر اور چلانا اور دیکھ بھال

مزید پڑھیں

بی سی بی جی میکس ایزریا گروپ، ایل ایل سی کی اپنے سرمایہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل نو اور استحکام اور نئی سرمایہ کاری

لاس اینجلس، 9 فروری 2015ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — بی سی بی جی میکس ایزریا گروپ، ایل ایل سی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے سرمایہ کاری ڈھانچے کی تشکیل نو کی ہے اور اسے نمایاں طور پر مستحکم کیا ہے۔ ادارے نے سرمایہ کاروں کی طرف سے 135 ملین نقد کشید کیا ہے، اپنے قرضے کو دوبارہ وضع بندی کی ہے اور اپنی فرد میزبان کو مضبوط کیا ہے، جو بی سی بی جی میکس ایزریا گروپ کو مستقبل کی ترقی کے لیے بہترین مقام پر پہنچاتی ہے۔ ادارے کے بانی میکس ایزریا بی سی بی جی میکس ایزریا گروپ کے بدستور چیف ایگزیکٹو افسر جبکہ ان کی اہلیہ لوبوف ایزریا، بدستور چیف کری ایٹو افسر ہیں۔ وہ ادارے کے سرمایہ کاروں، بشمول ملحقہ اداروں اور گوگن ہائیم پارٹنرز کے صارفین کے ساتھ ادارے کے اندر بامعنی ملکیتی مقام برقرار رکھیں گے۔ جناب ایزریا نے کہا کہ “ہم اپنے برانڈز، کاروباروں اور مستقبل کے امکانات پر بہت پرجوش ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ سرمایہ کاروں نے ہمارے کاروبار اور تزویراتی منصوبوں کے لیے اعتماد کا ووٹ دیا ہے۔” بی سی بی جی میکس ایزریا گروپ، ایل ایل سی بی سی بی جی میکس ایزریا گروپ، ایل ایل سی پہننے کے لیے تیار اشیاء میں عالمی رہنما اداروں میں سے ایک ہے، اور اس کے برانڈز کے پورٹ فولیو میں BCBGMAXAZRIA ،  ہروے لیگر از میکس ایزریا اور بی سی بی جنریشن شامل ہیں۔ برانڈز دنیا بھر کے 41 سے زیادہ ممالک میں 1000 سے زائد مقامات پر موجود ہیں، جو خواتین کے لیے پہننے کو تیار اشیاء اور لوازمات کا شاندار مجموعہ پیش کررہے ہیں۔ یہ مجموعے دنیا بھر میں اہم ڈپارٹمنٹ اسٹورز میں خصوصی بوتیکس اور شاپ-ان-شاپس میں فروخت کیے جاتے ہیں، جن میں ساکس ففتھ ایونیو، نیمان مارکس، بلومنگ ڈیلز، نارڈسٹروم، میکیز، لارڈ اینڈ ٹیلر، نیٹ-اے-پورٹر اور ہاروے نکولس شامل ہیں۔

مزید پڑھیں

آئی بی ایم نے عالمی تحقیقاتی نیٹ ورک کو جنوبی افریقہ تک پھیلا دیا

– جوہانسبرگ کی تحقیقی لیبارٹری جنوبی افریقہ کی قومی ترجیحات کو مدد دے گی اور بگ ڈیٹا، کلاؤڈ اور موبائل ٹیکنالوجیز کے استعمال میں جدت کو تحریک عطا کرے گی جوہانسبرگ ، 06 فروری  2015ء/ پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — آئی بی ایم (این وائی ایس ای: IBM) نے آج اپریل 2015ء سے جوہانسبرگ میں شروع ہونے والی نئی لیبارٹری کے ساتھ آئی بی ایم ریسرچ – افریقہ کی توسیع کے منصوبوں کا اعلان کیا ۔ اس کی توجہ بگ ڈیٹا، کلاؤڈ اور موبائل ٹیکنالوجیز کو جدید بنانے کے لیے جنوبی افریقہ کی قومی ترجیحات، ہنرمندی کو بڑھانے کی تحریک اور جدت طرازی پر منحصر اقتصادی ترقی کو استحکام دینے پر ہوگی۔ تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150205/173900 تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150205/173972 لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20090416/IBMLOGO تحقیقی تنصیب محکمہ تجارت و صنعت کے ذریعے 10 سالہ سرمایہ کاری منصوبے کے حصے کے طور پر اور محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی صورت میں یونیورسٹی آف وٹواٹرزرینڈ (وٹس) میں قائم ہوگی۔ “آئی بی ایم نے تحقیقی لیبارٹریوں کے مقام کا تعین کرتے ہوئے دو عوامل پر غور کیا: عالمی معیار کی مہارتوں اور صلاحیتوں تک رسائی اور سخت کاروباری و معاشرتی مشکلات پر کام کرنے کی صلاحیت، جن مشکلات سے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے بخوبی نمٹا جا سکتا ہے۔” ڈاکٹر جان ای کیلی سوئم، سینئر نائب صدر آئی بی ایم سلوشنز پورٹ فولیو اینڈ ریسرچ نے کہا۔ “جنوبی افریقہ بہترین پس منظر فراہم کرتا ہے کیونکہ ہم خطے میں اپنی تحقیقی کوششوں کو پھیلانے کی جانب نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔ افریقہ میں مقیم ہمارے محققین آئی بی ایم کے سائنسدانوں کی عالمی برادری کا حصہ ہیں جو ہمارے ادارے کا مستقبل تعمیر کررہے اور یقینی بنا رہے ہیں کہ ہم سائنسی تحقیق میں نمایاں مقام پر رہیں۔” وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نلیڈی پینڈور نے کہا کہ “جنوبی افریقہ ٹیکنالوجی اور سائنسی اعتبار سے دنیا کے جدید ترین ممالک میں شامل ہے۔ لیکن جدت کو  استحکام بخشنے اور معیشت کو مزید تنوع دینے کے لیے تحقیقی اور ترقی پسندانہ سرگرمیوں کو بڑھانا ضروری ہے۔ ہم آئی بی ایم ریسرچ کو جنوبی افریقہ میں خوش آمدید کہتے ہیں اور اس کی طویل المیعاد کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے بہتر سائنسی باصلاحیت افراد پیش کرتے ہیں۔” جدت کو مضبوط کرنا آئی بی ایم کے جنوبی افریقی محققین مقامی جامعات، تحقیقی اداروں، جدت کے مراکز، اسٹارٹ اپس اور حکومتی ایجنسیوں کے ساتھ جامع تعاون کریں گے، اور یوں جنوبی افریقہ کے ابھرتے ہوئے جدت طرازی کے ماحول کو مضبوط کریں گے اور اگلی نسل کی ٹیکنالوجی مہارتوں کو بنانے میں مدد دیں گے۔ ادارہ تحقیقی منصوبوں اور مہارت کو ترقی دینے کے لیے تعاون کے لیے پہلے ہی وٹس یونیورسٹی، محکمہ سائنس و  ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) اور کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق (سی ایس آئی آر) کے ساتھ معاہدے کرچکا ہے۔ پروفیسر آدم حبیب، وائس چانسلر اور پرنسپل، وٹس یونیورسٹی نے کہا کہ “جدت طرازی کے کامیاب ماحول کی تشکیل جنوبی افریقی معیشت کی مزید ترقی اور ملک کی بین الاقوامی مسابقت کے لیے ضروری ہے۔ آئی بی ایم ریسرچ کا

مزید پڑھیں

میلہ بہاراں کے لیے یونین پے انٹرنیشنل کی عالمی خصوصی پیشکشیں جاری

شنگھائی، چین 5 فروری 2015ء/سن ہوا –ایشیانیٹ / ایشیانیٹ پاکستان — یونین پے انٹرنیشنل نے 4  فروری کو اعلان کیا کہ اس نے خصوصی پیشکشیں جاری کردی ہیں جو ایک ماہ جاری رہیں گی اور 30 ممالک اور خطوں میں میلہ بہاراں کی تعطیلات کا احاطہ کرتی ہیں تاکہ بیرون ملک روایتی چینی میلے پر خرچ کرنے والے کارڈ یافتگان کے لیے جامع خدمات پیش کریں۔ اب جبکہ چین دنیا کا سب سے بڑا سیاحوں کا حامل ملک بن چکا ہے، یونین پے کارڈ (کارڈ نمبر جو 62 سے شروع ہوتے ہیں) نے بھی بیرون ملک جانے والے چینی سیاحوں کے لیے ادائیگی کی اولین ترجیح بننے کا راستہ بنا لیا ہے۔ یونین پے انٹرنیشنل کے سی ای او کے جیانبو نے کہا کہ “چینی کارڈ یافتگان کو جامع خدمات فراہم کرنا ایسا کام ہے جس سے ہم وابستہ ہیں۔” “دیگر تعطیلات کے مقابلے میں میلہ بہاراں چینی عوام کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہم بیرون ملک سفر کرنے والے اپنے کارڈ یافتگان کے لیے نئے قمری سال کے جشن کا احساس پیدا کرنے کے خواہشمند ہیں خصوصی پیشکشیں اور خدمات دے کر تاکہ وہ یونین پے کارڈز کا بہتر تجربہ پائیں۔” پیشکشیں 30 ممالک اور خطوں میں 1,500 منتخب سوداگروں کا احاطہ کرتی ہیں، جن میں 10 انتہائی معروف شاپنگ گروپس جیسا کہ ڈی ایف ایس، گیلریس لفیاتے اور شیک آؤٹ لیٹ شاپنگ شامل ہیں۔ پیش کردہ سہولیات میں مندرجہ بالا سوداگروں کے پاس یونین پے کارڈز استعمال کرنے پر 20 فیصد تک کی رعایت شامل ہے اور کارڈ یافتگان کرنسی کی تبدیلی پر 1 سے 2 فیصد کے عام استثنا کا بھی لطف اٹھا سکتے ہیں۔ 2014ء میں یونین پے انٹرنیشنل 60 بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ڈیوٹی فری شاپس، 40 مرکزی کاروباری اضلاع اور 30 سیاحتی مقامات پر خصوصی پیشکشیں دے گا تاکہ اپنے کارڈ یافتگان کی سہولیات کے نظام کو بہتر بنائے۔ یونین پے قبولیت کا نیٹ ورک چین سے باہر 150 ممالک اور خطوں تک پھیل چکا ہے اور چینی سیاحوں کی جانب سے سب سے زیادہ دیکھے گئے تقریبا تمام مقامات کا احاطہ کرتا ہے۔ یونین پے کارڈز شاپنگ مالز، برانڈ اسٹورز، ہوٹلوں اور روزمرہ مقامات بشمول سپر مارکیٹوں، ریستورانوں، تفریحی مقامات اور ٹیکسیوں میں قبول کیے جاتے ہیں۔ ہانگ کانگ، مکاؤ اور جنوبی کوریا میں کئی عام دکانیں، ریستوران اور عوامی نقل و حمل کی سہولیات یونین پے کوئیک پاس سروس کو بھی سپورٹ کرتی ہیں۔ یونین پے کارڈ یافتگان کو وافر خدمات  بشمول ٹیکس ری فنڈ اور غیر ملکی ہنگامی نقد امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ خصوصی پیشکشوں کے بارے میں مزید معلومات اور تفصیلات کے لیے www.unionpayintl.com ملاحظہ کریں، 24 گھنٹے سروس ہاٹ لائن (95516) پر کال کریں، سینا ویبو یا وی چیٹ پر “UnionPay International ” کو فالو کریں یا ایپل کے ایپل اسٹور یا گوگل کے پلے اسٹور میں “UnionPay International ” تلاش کرکے یا منسلک کیوآر کوڈز اسکین کرکے باضابطہ موبائل ایپلی کیشن ڈاؤنلوڈ کریں ذریعہ: یونین پے انٹرنیشنل تصویری منسلکات کے روابط: http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=250112

مزید پڑھیں