شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سندھ میں 2022 کے دوران سگ گزیدگی کے 2لاکھ کراچی میں 26ہزار واقعات

کراچی (پی پی آئی)سندھ ہائیکورٹ میں طارق منصورایڈووکیٹ نے بتایا کہ سال 2022 میں آوارہ کتوں نے صوبیشہریوں کو آوارہ کتوں نے کاٹا۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں سندھ میں آوارہ کتوں کی بھر مار کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی، آوارہ کتوں کی شکایت سے متعلق ہیلپ لائن غیر فعال ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔عدالت نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ،پروجیکٹ ڈائریکٹر اینٹی ریبیزکنٹرول پروگرام کوطلب کرلیا، طارق منصورایڈووکیٹ نے بتایا کہ 2022میں آوارہ کتوں نے صوبے میں 2 لاکھ شہریوں کو کاٹا جبکہ کراچی میں 26ہزار شہریوں کو آوارہ کتوں نے کاٹا۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کتوں کی نسل،روک تھام کے لیے قوانین بنائے گئے عملدرآمد نہیں کیا گیا، عدالت کے حکم پر34 سرکاری اسپتالوں میں ویکسین فراہم کرنیکادعویٰ کیا گیا لیکن آج بھی صوبے کے اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین دستیاب نہیں ہے۔درخواست نے کہا کہ موٹرسائیکل سوار میاں بیوی کتوں سے بچتے ہوئے ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئے،شہر کی ہرگلی میں کتوں کی بھر مار ہے کوئی روک تھام کرنیوالانہیں۔جس پر جسٹس عرفان سعادت خان نے استفسار کیا کون ہے یہ سب دیکھنے والا؟ کس کی ذمہ داری ہے کتوں کو کنٹرول کرنا؟ بلاؤانہیں توسرکاری وکیل نے کہا کہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اورذیلی محکموں کی ذمہ داری ہے۔عدالت نے فریقین سے 17 ستمبر کو رپورٹ طلب کرلی اور ربر کی گولیوں سے کتوں کو نشانہ بنانے کی درخواست نمٹادی۔عبداللہ نقوی ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ   نے محکموں کو کتوں کی نسل کشی سے روک دیا تھا، اب سندھ ہائیکورٹ میں مزید درخواست کی پیروی نہیں کرناچاہتے۔