کشتواڑ میں بھارتی فوجیوں کی محاصرے اورتلاشی کی کارروائی

اسلام آبادمیں منعقدہ سیمینار کے مقررین کا شیخ عبدالعزیز کو شاندار خراج عقیدت

شیخ عبدالعزیز کو ان کے یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت

شیخ عزیز نے کشمیر کاز کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا

بڈگام میں آتشزدگی کے واقعے میں امام بارگاہ جل کر خاکستر

بھارت ہمسایہ ممالک بنگلہ دیش، سری لنکا اورنیپال میں مداخلت بند کرے: مشترکہ بیان

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تلاش کریں

کشتواڑ میں بھارتی فوجیوں کی محاصرے اورتلاشی کی کارروائی

جموں (پی پی آئی)غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ضلع کشتواڑ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے ضلع کے علاقے کاپرن گرول میں کارروائی شروع کی ہے۔فوجیوں نے علاقے کو جانے والے تمام راستے بند کردیے اورگھرگھرتلاشی شروع کی۔آخری اطلاعات آنے تک محاصرے اور تلاشی کی کارروائی جاری تھی۔

مزید پڑھیں

اسلام آبادمیں منعقدہ سیمینار کے مقررین کا شیخ عبدالعزیز کو شاندار خراج عقیدت

اسلام آباد(پی پی آئی)کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیرشاخ اورکشمیر لبریشن سیل نے تحریک آزادی کشمیر کے ممتاز رہنما شیخ عبدالعزیز کوان کے یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں ایک سمینار کا انعقاد کیا۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سیمینار کی صدارت کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے کی جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنماچوہدری یاسین مہمان خصوصی تھے۔ سیمینار کے مقررین نے کہا کہ شہید عزیمت شیخ عبدالعزیز کی جدوجہد اور قربانیاں جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک درخشندہ اور ناقابل فراموش باب ہیں۔انہوں نے کہاکہ شیخ عبدالعزیز ایک انتہائی مخلص اور بیباک رہنما تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سربلندی اور تحریک آزادی جموں و کشمیر کے لیے وقف کر رکھی تھی۔انہوں نے اپنے خاندان سمیت بہت صعوبتیں برداشت کیں اوربھارتی عقوبت خانوں اور جیلوں کی سختیوں کا صبرواستقامت کے ساتھ مقابلہ کیا۔مقررین نے کہا کہ شہید رہنما کے مشن کو مقصد کے حصول تک جاری رکھا جائیگا اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیاجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ شہید شیخ عبدالعزیز اور دیگر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ شہدا ء کے مشن کو ہر قیمت پر اسکے منطقی انجام تک پہنچایاجائے۔ مقررین نے کہا کہ دفعہ370 کی منسوخی کا بنیادی مقصد جموں وکشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرناہے۔ مقررین نے بھارت پر زوردیاکہ وہ مسئلہ کشمیر کی متنا زعہ حیثیت کو تسلیم کرے، اقوام عالم اور کشمیریوں کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کرے اور مقبوضہ علاقے میں نافذ کالے قوانین کو منسوخ، سیاسی قیدیوں کو رہا اور کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق خود ارادیت دے۔سیمینار میں دیگرلوگوں کے علاوہ آزاد جموں وکشمیرمیں حزب اختلاف کے رہنماخواجہ فاروق، سابق امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر عبدالرشید ترابی،آزادکشمیر کے وزیر سردار جاوید ایوب،مسلم لیگ آزادکشمیر کے نائب صدرڈاکٹر نجیب،کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیرشاخ کے سابق کنونیر محمود احمد ساغر،جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ پرویز احمد،سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ،الطاف حسین وانی، سید فیض نقشبندی، محمد حسین خطیب، محمد رفیق ڈار،،اعجاز رحمانی،شیخ عبدالمتین، راجہ خادم حسین، حسن البناء، امتیاز وانی، حاجی محمد سلطان، زاہد اشرف،زاہد صفی،زاہد مجتبیٰ، انجینئر مشتاق محمود،شیخ ماجد، اشرف ڈار،سید گلشن،عدیل مشتاق،خان افسر خان،نجیب اللہ غفور، رئیس میر، عبدالحمید لون، ثناء اللہ ڈار، عبدالمجید میر، ملک غلام حسن،خورشید میر،ملک اسلم،بشیر عثمانی،عطاء اللہ،،عبدالرشید، عتیق الرسول، شہزادہ افسر خان، سردار عاصم اورابوزر سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افرادنے شرکت کی۔

مزید پڑھیں

شیخ عبدالعزیز کو ان کے یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت

مظفرآباد(پی پی آئی)کل جماعتی حریت کانفرنس کے ممتاز رہنما اور جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے سابق چیئرمین شیخ عبدالعزیز کو ان کے 16ویں یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے مظفرآباد کے مانک پہیاں مہاجر کیمپ میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق شیخ عبدالعزیز کو بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے 2008میں آج ہی کے دن ضلع بارہمولہ کے علاقے اوڑی میں اس وقت شہید کر دیا تھا جب وہ جموں کے ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے وادی کشمیر کی معاشی ناکہ بندی کے خلاف آزاد جموں و کشمیر کی طرف ایک زبردست مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔ تقریب کے مقررین نے تحریک آزادی کشمیر کے لئے شیخ عبدالعزیز کی بے مثال خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سچے قائد اور نڈر محب وطن تھے جنہوں نے کشمیر کے مقدس کاز کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔حریت کارکنوں نے کہا کہ شہید عزیمت شیخ عبدالعزیز ایک پیدائشی مجاہد تھے جنہوں نے ہرقسم کے مظالم کا بہادری سے سامنا کیا لیکن کبھی خوفزدہ نہیں ہوئے۔مقررین نے کشمیریوں کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ غیرمتزلزل عزم کے ساتھ قابض بھارت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور بھارت کو ان کاحق خودارادیت بحال کرنے پر مجبور کریں گے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے ذریعے عالمی برادری نے دے رکھی ہے۔

مزید پڑھیں

شیخ عزیز نے کشمیر کاز کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا

اسلام آباد(پی پی آئی)غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے چیئرمین شیخ عبدالعزیزکشمیریوں کی تحریک حق خودارادیت کے مخلص اور دیانتدار رہنما تھے جنہوں نے شہادت کو ترجیح دی لیکن اپنے مقصد پرکبھی سمجھوتہ نہیں کیا اورنہ بھارت کے ناجائز قبضے اوراس کی ظالمانہ پالیسیوں کے سامنے اپنا سرجھکایا۔کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج شیخ عبدالعزیز کے16ویں یوم شہادت پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی کے لیے وقف کر دی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ شہید رہنما جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزارا، اپنی آخری سانس تک کشمیر کی آزادی کے لیے بے لوث جدوجہد کرتے رہے اور کشمیری عوام کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ شیخ عزیز پاکستان کے ساتھ جموں و کشمیر کے الحاق کے پرجوش وکیل تھے۔شیخ عزیز اور دیگر شہداء بھارت کے جابرانہ اور ناجائز قبضے کے خلاف مزاحمت کی علامت ہیں۔ کشمیری شیخ عزیز جیسے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ کشمیری عوام اپنے شہدا ء کی قربانیوں کو ہر چیز سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری جانتے ہیں کہ شیخ عزیز کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے مشن کو بھارتی تسلط سے آزادی تک جاری رکھاجائے اور وہ اس حقیقی مقصد کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔شیخ عبدالعزیز کو بھارتی فوجیوں نے2008میں آج ہی کے دن ضلع بارہمولہ کے علاقے اوڑی میں اس وقت شہید کر دیا تھا جب وہ جموں کے ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے وادی کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کے خلاف آزاد جموں و کشمیر کی طرف ایک بڑے مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔ہندوتوا تنظیموں راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے وادی کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کا مقصد کشمیری آبادی کو بھوک سے مارنا تھا۔اس صورت حال نے وادی کشمیر کے باشندوں کے لیے غیر معمولی حالات پیدا کر دیے تھے اور کشمیریوں کو بھوک اور موت سے بچانے کے لیے شیخ عبدالعزیز اور دیگر حریت رہنما تجارت اور سفر کے لیے سرینگر-راولپنڈی روڈ کھولنے کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔

مزید پڑھیں

بڈگام میں آتشزدگی کے واقعے میں امام بارگاہ جل کر خاکستر

سرینگر(پی پی آئی)غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ضلع بڈگام کے علاقے ہانجک میں آتشزدگی کے ایک واقعے میں امام بارگاہ جل کر خاکسترہوگیا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقامی لوگوں نے صحافیوں کو بتایا کہ آگ ہفتے کی رات دیر گئے نمودارہوئی اور اتوار کی صبح تک جاری رہی جس سے پوری عمارت جل کر خاکسترہوگئی۔فائر فائٹرز اور مقامی لوگوں کی بھرپور کوششوں کے باوجود امام بارگاہ راکھ اور ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔آگ لگنے کی وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔

مزید پڑھیں

بھارت ہمسایہ ممالک بنگلہ دیش، سری لنکا اورنیپال میں مداخلت بند کرے: مشترکہ بیان

اسلام آباد(پی پی آئی)بنگلہ دیش، سری لنکا اورنیپال کی پانچ ممتاز شخصیات نے مشترکہ طور پر بھارت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ ان کے قومی معاملات میں مداخلت بند کرے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ مطالبہ بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ہفتے کے روز جاری کئے گئے بیان میں بھارت پر زوردیاگیا کہ وہ ان ممالک کی خودمختاری کا احترام کرے۔یہ مطالبہ کرنے والی پانچ شخصیات میں بنگلہ دیش میں انگریزی کی پروفیسر اورحقوق نسوں کی تنظیم ناریپوکھو کی رکن فردوس عظیم، کھٹمنڈو میں مصنف اور بانی ایڈیٹر ہمل ساؤتھ ایشین کنک منی دکشٹ،کولمبو میں سماجی کارکن اورصحافی لکشمن گناسیکرا، سینٹرفارپیس اینڈ جسٹس اورڈھاکہ میں بی آراے سی یونیورسٹی کے منظور حسن اور کٹھمنڈو میں انسانی حقوق کے قومی کمیشن کے سابق کمشنرسشیل پیکوریل شامل ہیں۔ان کا مشترکہ بیان ہر ملک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور احترام کی اہمیت کے بارے میں متفقہ موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ بیان میں کہاگیا کہ ہم بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا کے پانچ شہری بنگلہ دیش میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کے تناظر میں یہ مطالبہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں کہ بھارتی حکومت ہماری پالیسیوں میں مداخلت سے باز رہے۔گزشتہ دہائیوں کے دوران کولمبو، ڈھاکہ اور کھٹمنڈو میں نئی دہلی کے سیاسی، بیوروکریٹک اور انٹیلی جنس کارندوں کی مداخلت نے ہمارے ممالک میں نہ ختم ہونے والے سیاسی عدم استحکام میں کرداراداکیا ہے اور آمرانہ حکومتوں کو بااختیار بنایا ہے۔بیان میں کہاگیاکہ بھارت کی مداخلت پڑوسی جمہوریتوں کو کمزور کرتی ہے اور ان کی سماجی و اقتصادی ترقی کو متاثر کرتی ہے۔ یہ پرامن بقائے باہمی کے پنچ شیل اصول سے متصادم ہے جس کی بھارت نے کبھی وکالت کی تھی اور نریندر مودی حکومت کی ”پڑوسی پہلے”کی پالیسی اس کو جھٹلاتی ہے۔بیان میں کہاگیاکہ جنوبی ایشیا میں سیاسی استحکام اور امن بھارت کے اپنے مفاد میں ہے۔

مزید پڑھیں