ہواوے سیبٹ 2015ء میں آزاد جدت طرازی اور سب کے لیے یکساں فائدہ مند تعاون کو فروغ دیتا ہوا

فضائی مسافروں کی ترجیحات: اے پی اے سی میں بچت موویز، کھانے سے زیادہ اہم

جے اے سولر وسطی امریکہ میں پہلے بڑے پیمانے کے شمسی فارم کے لیے ایک مرتبہ پھر ماڈیولز فراہم کرے گا

اقوام متحدہ اور مکس ریڈیو خوشی کے بین الاقوامی دن کا جشن منائیں گے

یو بی ایم انڈیا کے انڈیا-سری لنکا ری نیویبل انرجی گروتھ فورم کا آغاز

اے پی آر انرجی نے میانمار میں کلیدی بجلی گھر کی توسیع کردی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تلاش کریں

ہواوے سیبٹ 2015ء میں آزاد جدت طرازی اور سب کے لیے یکساں فائدہ مند تعاون کو فروغ دیتا ہوا

جدید آئی سی ٹی کے ساتھ بہتر طور پر منسلک دنیا کی تعمیر ہینوور، جرمنی، 17 مارچ 2015ء/ پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — ہواوے نے 16 سے 20 مارچ 2015ء تک ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے آئی سی ٹی تجارتی میلے سیبٹ (CeBIT) میں اپنی جدید ترین مصنوعات کی نمائش کی۔ “ایک بہتر منسلک دنیا کی تعمیر کے لیے جدید آئی سی ٹی” کے موضوع کے ساتھ ہواوے تقریب کے دوران مختلف سرگرمیوں میں حصہ لے گا جس میں کلیدی تقاریر اور شراکت داروں اور صنعت کے ساتھی اداروں کے ساتھ پینل مذاکرے شامل ہیں۔ یہ ایک پریس کانفرنس ، اپنے سی آئی او فورم اور صارفین اور شراکت داروں کے ساتھ دستخطی تقاریب کی میزبانی کرے گا۔ ہواوے کا بوتھ ہال 2 کے بی30 میں قائم ہے اور ہال 6 میں چین کے مرکزی پویلین میں وقف شدہ نمائشی حصہ بھی دستیاب ہے۔ رواں سال سیبٹ 2015ء کا موضوع ڈیجیٹل معیشت (d!conomy) ہے، جس کی توجہ ڈیجیٹل تبدیلی پر ہے۔ رواں سال سیبٹ میں کلیدی و اہم ترین موضوعات میں سے ایک انڈسٹری 4.0 ایک اعلیٰ ٹیکنالوجی حکمت عملی ہے جسے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کے فروغ اور اقتصادی ترقی کے لیے جرمنی حکومت نے تجویز کیا تھا۔ اس ایونٹ کی توجہ کے مطابق جناب یان لیڈا، صدر انٹرپرائز بزنس گروپ، ہواوے، نے “آئی سی ٹی نئے صنعتی انقلاب کو ممکن بناتی ہے” کے عنوان سے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ “موبائل براڈبینڈ، سافٹویئر-ڈیفائنڈ نیٹ ورک (ایس ڈی این)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بڑے ڈیٹا اور انٹرنیٹ آف تھنگز جیسی جدید ٹیکنالوجیوں کی ترقی روایتی صنعتوں کو تبدیل کررہی ہے، اور چوتھے صنعتی انقلاب کی راہ ہموار کررہی ہے۔ انڈسٹری 4.0 کو زیادہ اسمارٹ اور بہتر طور پر منسلک صنعتی نیٹ ورکس پر مشتمل نئے آئی سی ٹی بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ ہواوے، آئی سی ٹی صنعت میں 20 سالہ تجربے کے ساتھ ہواوے نے ہمیں ٹیکنالوجی اور جدت طرازی میں برتری حاصل کرنے، جدت طرازی اور کھلے تعاون کے ذریعے چوتھے صنعتی انقلاب کے لیے بہترین آئی سی ٹی شراکت داروں میں سے ایک کی حیثیت سے مستحکم ہونا ممکن بناتا ہے۔” http://photos.prnasia.com/prnvar/20150317/0861501886 آزاد جدت طرازی کے ذریعے بہتر انداز میں منسلک دنیا کی تعمیر ہواوے نے چھ کلیدی مصنوعات اور سات کلیدی حل جاری کرکے آزاد جدت طرازی کا مظاہرہ کیا ہواوے دنیا بھر میں حکومتوں اور نقل و حمل، توانائی اور مالیات کی صنعتوں کے لیے چھ کلیدی مصنوعات اور سات کلیدی حل پیش کرے گا، جو ایک ہی مقام پر تمام آئی سی ٹی حل فراہم کرنے والے ادارے کی حیثیت سے اس کے پورٹ فولیو کو مضبوط کررہا ہے چھ کلیدی مصنوعات میں شامل ہیں: ایس12700 ایجائل سوئچز، کلاؤڈ انجن 12800 ڈیٹا سینٹر سوئچز، نیٹ انجن 40 ای کور راؤٹر، فیوژن سرور 9032، اوشن سٹور 18800 اور اوشن سٹور 9000۔ سات کلیدی حلوں میں شامل ہیں: اسمارٹ سٹی سلوشن، اومنی میڈیا سلوشن، ایجائل نیٹ ورک سلوشن، سروس-ڈریون ڈسٹری بیوٹڈ کلاؤڈ ڈیٹا سینٹر (SD-DC2) ، ایجائل کولابوریشن سلوشن، انڈسٹریل انٹرکنکشن سلوشن اور انٹرپرائز آئی سی ٹی سروسز۔ حل ہال 2 میں

مزید پڑھیں

فضائی مسافروں کی ترجیحات: اے پی اے سی میں بچت موویز، کھانے سے زیادہ اہم

– ایکسپیڈیا کا 2015ء ایل سی سیایئرلائن اشاریہایشیا-بحر الکاہل کے مسافروں کا کم خرچ کیریئرزکے حوالے سے رویہ ظاہر کرتا ہے؛ ایشیا-بحر الکاہل کے مسافر ممکنہ طور پر کیری-آن سفری سامان سے زیادہ غسل خانے کی سہولیات چھوڑنے کو تیار سنگاپور، 16 مارچ 2015ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — ایکسپیڈیا گروپ کی عالمی ٹور اینڈ ٹرانسپورٹ ٹیم نے آج کم خرچ ایئر لائنوں (ایل سی سی) کے حوالے سے اپنے اشارے کے نتائج جاری کردیے ہیں، نارتھ اسٹار کی جانب سے کی گئي یہ تحقیق ایشیا-بحر الکاہل کے مسافروں کے ایل سی سیز کے حوالے سے رویے کے لیے کی گئی تھی۔ تحقیق کے مطابق ایل سی سی کی ترقی سے تحریک پاتےہوئے مارچ 2015ء* کے دوران ایشیا-بحرالکاہل میں رسد میں 9.5 فیصد سال-بہ-سال اضافہ متوقع ہے، جو پیسے بچانے کے لیے سہولیات چھوڑنے کے خواہشمند 94 فیصد مسافروں کے لیے ایک زبردست خبر ہے۔ لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150123/170969LOGO ایکسپیڈیا 2015ء ایشیا-بحر الکاہل ایل سی سیایئر لائن اشاریہ نے آسٹریلیا، نیوزیلینڈ، جاپان،جنوبی کوریا، ہانگکانگ، بھارت، ملائیشیا، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ اور تائیوان میں لگ بھگ 3,200 مسافروں سے رائے لی، یہ کرایوں اور اضافی سہولیات کے درمیان توازن پر تحقیق کرنے والی ایکسپیڈیا کے 2014ء مغربی یورپ ایل سی سیایئرلائن اشاریے میں تازہ اضافہ ہے۔ سروے نے ایل سی سیز اور روایتی ایئرلائنوں کے درمیان صارفی خدمات اور سہولیات کے حوالے سے عوامی ادراک کا جائزہ لیا اور پوچھا کہ پیسے بچانے کے لیے مسافر سب سے زیادہ کس چیز کی قربانی دیتے ہیں۔ ایل ایل سی کے انتخاب میں مسافر زیادہ تر کون سے عوامل پر غور کرتے ہیں؟ اور مسافر اپنی بچت سے کیا کرتے ہیں؟ تحقیق کے مطابق کسی کیریئر کے انتخاب کے فیصلے میں سب سے اہم عنصر ایئرلائن کا حفاظتی ریکارڈ ہے۔ مرد تکیوں اور کمبلوں، مفت چیک شدہ سفری سامان اور غسل خانے کی سہولیات جیسی آسائشیں نسبتاً زیادہ چھوڑتے ہیں۔ ساتھ ہی 55 سال سے زیادہ عمر کے مسافروں کے مقابلے میں نوجوان مسافر (35 سال سے کم عمر) کا ماننا ہے کہ لیگ روم اور کیری-آن سفری سامان چھوڑنا زیادہ بہتر ہے اور وہ جیب بچانے کے لیے مکمل کھانے کی خدمات بھی چھوڑنے کے ارادے رکھتے ہیں۔ موویز کی ضرورت نہیں ایشیا-بحر الکاہل کے نصف سے زیادہ (56 فیصد) مسافر پیسے بچانے کے لیے دوران پرواز تفریح کو چھوڑ دینے کے خواہشمند تھے، جس کے بعد مکمل کھانے کی خدمات (49 فیصد) اور تکیے اور کمبل (48 فیصد) آتے ہیں۔ ایشیا-بحرالکاہل میں مسافروں نے لیگ روم، غسل خانے کی سہولیات اور کیری-آن سفری سامان کو ایسی سہولیات قرار دیتے ہیں جن کو پیسے بچانے کے لیے چھوڑنے کا رحجان سب سے کم ہے۔ دوران پرواز تفریح 56 فیصد مکمل کھانے کی خدمات 49 فیصد تکیے اور کمبل 48 فیصد ناشتہ اور مشروبات 47 فیصد نشست کے پیشگی انتخاب کی صلاحیت 44 فیصد مفت چیک شدہ سفری سامان 22 فیصد لیگ روم 21 فیصد غسل خانے کی سہولیات 19 فیصد کیری-آن لگیج 17 فیصد جائیں یا نہ جائیں مکمل فہرست ظاہر کرتی ہے کہ ایشیا-بحرالکاہل میں مسافر اپنے ساتھ رکھنے والے سفری سامان یعنی

مزید پڑھیں

جے اے سولر وسطی امریکہ میں پہلے بڑے پیمانے کے شمسی فارم کے لیے ایک مرتبہ پھر ماڈیولز فراہم کرے گا

شنگھائی، 16 مارچ 2015ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — اعلیٰ کارکردگی کی شمسی توانائی مصنوعات بنانے والے دنیا کے بڑے ساخت گروں میں سے ایک  جے اے سولر ہولڈنگز کمپنی لمیٹڈ (نیس ڈیک: JASO) (“جے اے سولر” یا “جے اے”) نے آج اعلان کیا ہے کہ وہ گوئٹے مالا کے ایک شمسی فارم کے دوسرے مرحلے کے لیے 35.1 میگاواٹ کے ماڈیولز فراہم کرے گا۔ 35.1 میگاواٹ کے ماڈیولز کے ایک اور منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لیے معاہدے پر دستخط 2014ء میں پہلے مرحلے کے لیے 59.7 میگاواٹ کی کامیابی سے فراہمی کے بعد ہوا ہے۔ وسطی امریکہ میں سب سے بڑے اور لاطینی امریکہ خطے میں دوسرے سب سے بڑے شمسی فارم کی حیثیت سے گوئٹے مالا منصوبے کو انتہائی بھروسہ مندی، تبدیلی کی انتہائی موثریت اور بجلی کی بہترین پیداوار کی ضرورت ہے۔ جناب جیان سی، صدر جے اے سولر، نے کہا کہ “ہمیں فخر ہے کہ ہمارے صارفین جے اے کے انتہائی موثر ماڈیولز سے مطمئن ہیں اور ہمیں منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لیے بھی منتخب کیا ہے۔ 300 فٹ بال میدانوں کے برابر علاقے کا احاطہ کرنے والے پینلنہ صرف وسطی امریکہ کے عوام کو صاف بجلی فراہم کریں گے، بلکہ ہمارے لیے مقامی مارکیٹ میں راستہ بھی کھولتے ہیں۔ یہ دنیا بھر میں نئی مارکیٹوں تک قدم پھیلانے کی کوششوں میں ہمارا نیا سنگ میل ہے اور ہمارے بڑھتے ہوئے عالمی اثرورسوخکی عکاسی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

اقوام متحدہ اور مکس ریڈیو خوشی کے بین الاقوامی دن کا جشن منائیں گے

نیو یارک، 16 مارچ 2015ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — آج خوشی کے بین الاقوامی دن کی #HappySoundsLike مہم کے آغاز کے لیے کئی سپر اسٹارز نے اقوام متحدہ اور دنیا کی سب سے پرسنلائزڈ میوزک اسٹریمنگ سروس، مکس ریڈیو، کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150311/181046LOGO تصویر – http://photos.prnewswireHYPERLINK “http://photos.prnewswire.com/prnh/20150311/181047”.com/prnh/20150311/181047 لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150311/181045LOGO موسیقی خوشیاں پھیلانے اور استحکام بخشنے اور ایک بہتر کل کی امید کو تقویت دینے کی قوت رکھتی ہے۔ اس امر کو تسلیم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے پیامبر برائے امن اور خیرسگالی سفیروں، اور ساتھ ساتھ بین الاقوامی گلوکار ایڈ شیران، ڈیوڈ گوئٹا،جان لیجنڈ اور جیمز بلنٹ و دیگر، نے دنیا کی مسرور ترین پلے لسٹ بنانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے، جو 20 مارچ کو خوشی کے عالمی دن پر جاری ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی-مون نے کہا کہ “اقوام متحدہ خوشی کے بین الاقوامی دن کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے مکس ریڈیو کے ساتھ شراکت داری پر خوش ہے۔ اس روز ہم موسیقی کی عالمگیر زبان کو استعمال کرکے دنیا بھر میں ان کروڑوں افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے جو غربت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، انسانی جرائم اور ماحولیاتی انحطاط کے اثرات اور موسمیاتی تبدیلی سے پریشان ہیں۔” بان نے 2010ء میں دنیا بھر میں معذوری کے شکار افراد کی جانب سے ونڈر اے یو این میسنجر آن پیس کو مقرر کیا تھا، اوراپنی “سائنڈ سیلڈ ڈلیورڈ” کو پلے لسٹ کے لیے نامزد کیا ہے۔” گلوکار/نغمہ نگار کوڈی سمپسن زیر قیادت ہفتہ بھر چلنے والی #HappySoundsLike مہم دنیا بھر کے گلوکاروں اور دانا سامعین کی جانب سے تیار کی گئی متاثر کن بین الاقوامی پلے لسٹ کے ساتھ اس ہفتے کے اختتام پر عروج پر پہنچ جائے گی۔ موسیقی کے پرستار #HappySoundsLike کے ہیش ٹیگ اس گانے کو پیش کرسکتے ہیں جو انہیں سب سے زیادہ خوش کرتا ہے۔ جمعہ 20 مارچ کو کوڈی سمپسن باضابطہ فہرست میں پانچ ٹریک کی شمولیت پر روشنی ڈالیں گے۔ کوڈی سمپسن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “میں خوشی کے عالمی دن کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے اس حیرت انگیز مہم کا حصہ بننے پر خوش ہوں۔” “مجھے امید ہے کہ سب اس دن کو منائیں گے اور ایسے گانے پیش کریں گے جو انہیں سب سے زیادہ خوشی دیتے ہیں! میں باضابطہ فہرست میں شامل کرنے کے لیے گانے منتخب کروں گا جن کی عوام کی جانب سے سب سے زیادہ تجویز دی جائے گی، #HappySoundsLike، جو 20 مارچ بروز جمعہ کو جاری ہوں گے تاکہ آپ سب سنیں۔” جرکی روزن برگ، سربراہ مکس ریڈیو نے کہا کہ “اس سال خوشی کے عالمی دن کا جشن منانے اور شعور اجاگر کرنے کے لیے مکس ریڈیو اقوام متحدہ کے ساتھ فخر محسوس کرتا ہے۔۔ “ہمیں امید ہے کہ عوام عالمی ستاروں کے نقش قدم پر چلیں گے اور ایسے گانے پیش کریں گے جو انہیں سب سے زیادہ خوش کرتے ہیں۔ 20 مارچ کو #HappySoundsLike جاری ہوگا اور ہمیں امید ہے کہ یہ دنیا بھر کے چہروں پر مسکراہٹ لائے گا۔” 2012ء

مزید پڑھیں

یو بی ایم انڈیا کے انڈیا-سری لنکا ری نیویبل انرجی گروتھ فورم کا آغاز

کولمبو، 11 مارچ 2015ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان – کولمبو میں صنعت کا پہلا فورم جو شعبے کی صلاحیتوں اور بین الملکی مواقع ظاہر کرے گا یو بی ایم انڈیا نے آج گلاداری ہوٹل، کولمبو میں انڈیا-سری لنکا ری نیوایبل انرجی گروتھ فورم 2015ء کی میزبانی کی۔ ایک روزہ کانفرنس کا مقصد تعاون اور ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی تقسیم کے ذریعے خطے میں قابل تجدید توانائی کی ترقی کو تیز تر کرنا تھا۔ (تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20150311/10118125-a) (تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20150311/10118125-b) (لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20130226/599595-c) کانفرنس نے پالیسی، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور قابل تجدید توانائی کی بڑھتی ہوئی تقسیم کے دیگر اہم محرکات کے حوالے سے کلیدی فیصلہ سازوں اور معروف ماہرین کو یکجا کیا جو توانائی حفاظت اور اقتصادی ترقی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ افتتاحی تقریب میں قابل تجدید توانائی کے معروف ماہر، نوبل انعام یافتہ اور حکومت سری لنکا کے توانائی مشیر پروفیسر موہن موناسنگھے کا کلیدی خطاب پیش کیا گیا تھا۔ جناب کرشن پالاسنا، ڈائریکٹر، دی کلائمٹ گروپ (بھارت)  نے افتتاحی خطاب کیا۔ جناب ہرشا وکرماسنگھے، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (اسٹریٹجی)، سری لنکا سسٹین ایبل انرجی اتھارٹی نے کلیدی خطاب کیا اور جناب منگلا پی بی یپا، سیکرٹری جنرل/سی ای او، دی سیلون چیمبر آف کامرس نے صنعت کے حوالے سے خصوصی خطاب کیا۔ کانفرنس کے مقررین میں چند معروف بھارتی نام شامل تھے جیسا کہ ڈاکٹر پون سنگھ، پی ٹی سی انڈیا فنانشل سروسز لمیٹڈ، جناب ونے کمار پی، سی او او،گرین کو گروپ، جناب انوراگ جین، سینئر جنرل مینیجر، بزنس ڈیولپمنٹ، ویلسپن انرجی لمیٹڈ اور جناب ڈی رادھا کرشن، چیئرمین، ارجا گیان فاؤنڈیشنز اور دیگر۔ انڈیا-سری لنکا ری نیویبل انرجی گروتھ فورم ایسے اہم وقت پر ہوا ہے جب شمسی توانائی اور دیگر قابل تجدید توانائیوں کے شعبوں کی طرف عالمی رحجان موجود ہے اور صاف ٹیکنالوجی اور ماحول دوست توانائی میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری موزوں منصوبوں کو دیکھ رہی ہے۔ جناب ٹی سری رامن، مینیجنگ ڈائریکٹر، سول ٹیک ایکوئپمنٹس اور جناب وی شانمگم، مینیجنگ ڈائریکٹر، فوکوس انڈیا پرائیوٹ لمیٹڈ کی جانب سے آف-گرڈ مصنوعات برتاؤ اور فوائد، جناب سینتھل کمار کالیامورتھی، سربراہ – ٹیکنیکل، بونفیگلیولی ری نیوایبلز پاور کنورژن انڈیا پرائیوٹ لمیٹڈ نے شمسی شعبے میں مواقع اور ڈاکٹر اے ساجیداس، بین الاقوامی مشیر – بایو گیس مینیجنگ ڈائریکٹر، بایوٹیک ری نیوایبل انرجی نے بایومیتھینیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے فضلے کو بجلی کے منصوبوں میں تبدیل کرنے پر زبردست پریزینٹیشنز دیں۔ چھت پر شمسی توانائی اور آف-گرڈ حلوں کی حقیقی صلاحیت کا اندازہ لگانے پر ایک اور انٹرایکٹو سیشن جناب ڈی رادھا کرشن، چیئرمین، ارجا گیان فاؤنڈیشنز (سیشن ماڈریٹر)، جناب مشتاق احمد، مینیجنگ ڈائریکٹر، شیور انرجی سسٹمز پرائیوٹ لمیٹڈ، جناب ستیش جھا، چیئرمین، ای سی سی او الیکٹرونکس پرائیوٹ لمیٹڈ اور محترمہ گونے جایاسوما، ڈائریکٹر جے لنکا ٹیکنالوجیز (پرائیوٹ) لمیٹڈ نے پیش کیا تھا۔ جدید سرمایہ کاری کے آپریشنز اور خطرات کی تخفیف پر ڈاکٹر پون سنگھ، ڈائریکٹر، پی ٹی سی انڈیا فنانشل سروسز لمیٹڈ، جناب انوراگ جین، سینئر جنرل مینیجر، بزنس ڈیولپمنٹ، ویلسپن انرجی لمیٹڈ، جناب ونے کمار پی، سی او او، گرین کو گروپ، جناب ڈی رادھا کرشن، چیئرمین ارجا گیان فاؤنڈیشنز اور جناب سریش آر آئی

مزید پڑھیں

اے پی آر انرجی نے میانمار میں کلیدی بجلی گھر کی توسیع کردی

جیکسن ول، فلوریڈا، 11 مارچ 2015ء/ پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — بجلی کے فوری حل پیش کرنے والا معروف عالمی ادارہ اے پی آر انرجی اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہے کہ اس نے میانمار میں اپنے بجلی گھر میں 20 میگاواٹ کی توسیع کی اجازت حاصل کی ہے، جو میانمار الیکٹرک پاور انٹرپرائزز (ایم ای پی ای) کو کم از کم 102 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کی ضمانت دے گا۔ تصویر  –  http://photos.prnewswire.com/prnh/20150310/180882 لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20120207/FL48583LOGO کیوکسے، منڈالے خطے میں قائم توسیع شدہ بجلی گھر میانمار میں سب سے بڑے تھرمل پلانٹوں میں سے ایک ہے جو چھ ملین سے زیادہ افراد کو بجلی فراہم کررہا ہے۔ یہ جدید ترین سی اے ٹی کم اخراج کے متحرک گیس پاور ماڈیولز پیش کرتا ہے اور میانمار کی مقامی اور صاف قدرتی گیس پر چلتا ہے۔ اے پی آر انرجی کا بجلی گھر مئی 2014ء سے کام کررہا ہے۔ کلائیو ٹرٹن، اے پی آر انرجی میں مینیجنگ ڈائریکٹر ایشیا بحر الکاہل، نے کہا کہ “نئے ٹھیکوں اور تجدید کے ساتھ ساتھ ٹھیکوں کی توسیع اے پی آر انرجی کی حکمت عملی اور کاروباری نمونے کا اہم حصہ ہے۔ ہمارے میانمار بجلی گھر میں اضافی گنجائش رواں سال کے اوائل میں انڈونیشیا میں پہلے سے اعلان کردہ توسیع کے بعد آتی ہے، اور یہ بڑھتی ہوئی علاقائی طلب اور ہماری فراہم کردہ خدمات کی بہترین سطح کا نتیجہ ہے۔ ہماری نظریں میانمار میں بجلی کی فراہمی کو قابل بھروسہ بنانے، اس کے عوام اور صنعتوں کو کافی بجلی دینے، اقتصادی نمو کو سہارا دینے اور معیار زندگی کو مجموعی طور پر بہتر بنانے میں مدد دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر لگی ہوئی ہیں۔” اے پی آر انرجی کے بارے میں اے پی آر انرجی بڑے پیمانے پر اور فوری بجلی حلوں میں رہنما عالمی ادارہ ہے، جو صارفین کو قابل بھروسہ بجلی تک فوری رسائی فراہم کررہا ہے جب بھی اور جہاں بھی انہیں ضرورت ہو۔ اے پی آر جدید، ایندھن موثر ٹیکنالوجی کے ساتھ صنعت کے پیش پیش تجربے کو ملاتا ہے تاکہ کلیدی بجلی گھر فراہم کرسکے جو فوری طور پر لگائے جاسکیں، ان میں مرضی کے مطابق تبدیلی لائی جا سکے اور بڑھایا جا سکے۔ افادہ عام اور صنعت دونوں شعبوں کے لیے خدمات پیش کرتے ہوئے اے پی آر انرجی دنیا بھر میں صارفین اور مقامی برادریوں کو بجلی کی پیداوار کے حل فراہم کرتا ہے، جس میں اس کا زور افریقہ، امریکین، ایشیا بحر الکاہل اور مشرق وسطی پر ہے۔ مزید معلومات کے لیے ادارے کی ویب سائٹ دیکھیںwww.aprenergy.com۔

مزید پڑھیں