پاکستان کی برآمدات میں تقریباً 3 ارب ڈالر کا اضافہ،حجم 30 ارب 66 کروڑ ڈالر

سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک نے 40 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی

مقبوضہ کشمیر کیدرجنوں اسکولوں میں انتظامی سربراہ نہ ہونے سے تدریس بری طرح متاثر

 مودی حکومت نے غرباء کیلئے زندگی انتہائی مشکل بنا دی ہے،نیشنل کانفرنس

 کشمیری 5 اگست کو”یوم استحصال کشمیر“ منائیں، حریت کانفرنس

 پنجاب میں چھاپے،جماعت اسلامی کے متعددکارکنان کو گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تلاش کریں

پاکستان کی برآمدات میں تقریباً 3 ارب ڈالر کا اضافہ،حجم 30 ارب 66 کروڑ ڈالر

اسلام آباد(پی پی آئی)پاکستان کی برآمدات میں تقریباً 3 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔گزشتہ مالی سال برآمدات کا حجم 30 ارب 66 کروڑ ڈالر رہا۔گزشتہ مالی سال برآمدات میں 10.65 فیصد اضافہ ریکارڈکیا گیا،خوراک،ٹیکسٹائل، سیمنٹ اورکھیلوں کیسامان سمیت متعددمصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوا۔ادارہ شماریات کیمطابق سالانہ ریکارڈ 7 ارب 36 کروڑڈالرکی غذائی اشیاایکسپورٹ کی گئیں، چاول، پھل،سبزیوں، گوشت،مصالحوں اور آئل سیڈز کی ایکسپورٹ میں چھیالیس فیصد اضافہ ہوا۔پی پی آئی کے مطابق ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات صفر اعشاریہ نو تین فیصد اضافے سے 16ارب 65 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئیں۔خام کپاس کی برآمد میں 316فیصد، سوتی دھاگے کی برآمدات میں 13فیصد اور کیمیکلزکی برآمدات میں 8 فیصد اضافہ ہوا۔ کیمیکلز کی برآمدات کا حجم تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر رہا۔سیمنٹ کی برآمدات چالیس اعشاریہ تین چھ فیصد اضافے سے 26کروڑ 65 لاکھ، پیٹرولیم اور کوئلے کی ایکسپورٹ اسی فیصد اضافے سے 40کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔پی پی آئی کے مطابق پاکستانی فٹبال کی برآمدات میں سات اعشاریہ چارایک فیصد اضافے سے حجم پچیس کروڑ چوالیس لاکھ ڈالررہا،پلاسٹک میٹریل، کینوس فٹ ویئر، ادویات، انجینئرنگ گڈز،جیولری کی ایکسپورٹ  میں بھی اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں

سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک نے 40 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی

کراچی(پی پی آئی)ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے چالیس کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی۔ بنک دو ہزار پچیس تک  پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالردے گا،رقم پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ گھروں اورانفراسٹرکچرکی تعمیر پرخرچ ہوگی۔یہ فنڈزسیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اورتعمیر نو کے منصوبے کا حصہ ہیں،پاکستان میں 2022 میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے سندھ میں بڑی تباہی ہوئی،پی پی آئی کے مطابق بنک کاکہنا ہیکہ منصوبے کے تحت سندھ میں صحت کی بنیادی سہولیات کو بحال کیا جائیگا،سیلاب سیسندھ میں 83 فیصدگھرمتاثرہوئے،21 لاکھ گھرمکمل یا جزوی تباہ ہوئے،دوسال گزرنے کیباوجود متاثرین عارضی گھروں یا شیلٹرزمیں رہنے پرمجبور ہیں۔

مزید پڑھیں

مقبوضہ کشمیر کیدرجنوں اسکولوں میں انتظامی سربراہ نہ ہونے سے تدریس بری طرح متاثر

سری نگر/مقبوضہ کشمیر(پی پی آئی)مقبوضہ جموں و کشمیر میں شعبہ تعلیم سے قابض بھارتی انتظامیہ کی عدم توجہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ضلع کولگام میں 16 ہائیر سیکنڈری ا سکول اور 21 دیگراسکول پرنسپل اور ہیڈ ماسٹر کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ ضلع میں چیف ایجوکیشن آفیسر (سی ای او)، ڈپٹی سی ای او، تین زونل ایجوکیشن آفسر (زی ای اوز)، چار زونل ایجوکیشن پلاننگ آفسر(زیڈ ای پی اوز) اور 124 لیکچراروں کی آسامیاں بھی مہینوں سے خالی ہیں۔ اسکولوں میں انتظامی سربراہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا کام بری طرح متاثر ہے۔

مزید پڑھیں

 مودی حکومت نے غرباء کیلئے زندگی انتہائی مشکل بنا دی ہے،نیشنل کانفرنس

سری نگر/مقبوضہ کشمیر(پی پی آئی)مقبوضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس نے کشمیریوں کی بنیادی ضروریات نظر انداز کرنے پر بی جے پی کی بھارتی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔نیشنل کانفرنس کے رہنما اجے کمار سدھوترا نے جموں میں ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں بجلی کی مسلسل بندش اور پانی کی قلت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ مسلسل لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے جسکی وجہ سے لوگوں کوشدید مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سمارٹ میٹروں کی وجہ سے لوگوں کو بجلی کے بھاری بل دینے پڑتے ہیں۔ اجے کمار سدھوترا نے کہا کہ مودی حکومت نے غرباء کیلئے زندگی انتہائی مشکل بنا دی ہے۔

مزید پڑھیں

 کشمیری 5 اگست کو”یوم استحصال کشمیر“ منائیں، حریت کانفرنس

سری نگر/مقبوضہ کشمیر(پی پی آئی)مقبوضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیری عوام، آزادی پسند تنظیموں اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں سے 5 اگست کو ”یوم استحصال کشمیر“ منانے کی اپیل کی ہے۔ نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت نے 5اگست2019کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کشمیریوں کی شناخت اور پہچان پر ایک سنگین وار کیا تھا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے کہاکہ  بھارت کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے زمینی حقائق تسلیم کرے، 5 اگست 2019 کے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات واپس لے اور مقبوضہ علاقے کا فوجی محاصرہ ختم اور تمام کشمیری نظر بندوں کو رہا کرکے تنازعہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیلئے ماحول کے سازگار بنائے۔

مزید پڑھیں