پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تھر کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تما م صوبائی پی ڈی ایم سے رابطہ : ڈائرکٹر پی ڈی ایم اے

حیدرآباد: ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے نثار احمد چنڑ نے کہا ہے کہ تھر میں قحط سالی کی صورتحال سے نمٹنے اور امداد کے لیے پی ڈی ایم اے خیبرپختون خواہ ، پی ڈی ایم اے بلوچستان اور پی ڈی ایم اے پنجاب سے رابطہ کیا گیا ہے۔ یہ بات انہوں نے سرکار کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم اے خیبرپختون خواہ سے امداد کیلئے رابطہ کرنے پر اب تک 60ٹن چاول20 کلوگرام کے حساب سے 12ہزار آٹے کی بوریاں ، 36ٹن چینی ، 60 ٹن مختلف دالیں، 10 ٹن چائے، 12 ہزار ٹن آئل ، 2لاکھ 16 ہزار منرل واٹر کی بوتلیں ، 1 ٹن نمک، 10 ٹن کھجور، 15ہزار بسکیٹ پیکیٹس، خشک دودہ کے چار ہزار پیکیٹس، پندرہ ہزار ہائی انرجی بسکیٹ کے پیکیٹس ، پانچ ہزار سیریلک کے پیکیٹس ، اور او ۔آر۔ایس کے دس ہزار پیکیٹس فراہم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے بلوچستان کی جانب سے پچاس کلوگرام کے پندرہ سو چاول کے تھیلے بھی فراہم کیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پی ڈی ایم اے پنجاب نے بھی امداد کے لئے رابطہ کیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم اے سندھ کی جانب سے پچاس کلوگرام کے320 چاول کے تھیلے، اور 12 ہزار راشن کے تھیلے فراہم کئے گئے ہیں۔ انہوںنے مزید بتایا کہ چیمبر آف کامرس کراچی کی جانب سے تین امدادی سامان کے ٹرک بھیجے گئے ہیں ، جس میں ایک ٹرک پانی کی بوتلوں ، ایک ٹرک خشک دودھ کی اور ایک ٹرک چاول کاشامل ہے ۔ انہوں نے مزید بتایاکہ پی ڈی ایم اے سکھرنے لو بسکٹ کمپنی سے بھی رابطہ کیا ہے اورانہوں نے اس سلسلے میں12 ہزار ہائی انرجی بسکٹ اور مزید 25ہزار راشن بیگز بھی فراہم کرنے کا کہا ہے ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے نثار احمد چنڑنے مزید بتایا کہ تھر میں قحط سالی کے خاتمے اور مستقل بنیادوں پر حل کے لئے پی ڈی ایم اے کی جانب سے لانگ ٹرم منصوبے شروع کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔