تازہ ترین خبریں

تلاش کریں

اشتہار

کیلنڈر

خبریں

تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ

بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں بتایا ’پاکستانی فوجیوں نے ناجائز طور پر لائن آف کنٹرول پار کر کے بھارتی چوکی پر حملہ کیا جس میں دو بھارتی ’سپاہی شہید‘ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بلا کو بہت سخت الفاظ میں اپنی بات کو ان کے سامنے رکھا کہ وہ اپنی حکومت کو یہ بات پہنچا دیں کہ اس قسم کی بربریت کی یقیناً نہ کوئی توقع کر سکتا ہے اور نہ ہی برداشت کر سکتا ہے‘۔ بھارتی وزیر خارجہ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دونوں ممالک نے حالات بہتر کرنے کی جو کوشش کی ہے اس پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس سوال پر کہ بھارتی ذرائع ابلاغ میں تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور کے سر قلم کیے گئے ہیں تاہم پاکستانی فوج اور میڈیا اس بات سے انکار کرتا ہے، سلمان خورشید کا کہنا تھا ’ ظاہر ہے وہ آسانی سے دنیا کے سامنے اس بات کو قبول نہیں کریں گے لیکن ہمارے پاس ثبوت رہیں گے اور جب ضرورت پڑے گی تو یہ ثبوت دکھا دیے جائیں گے۔‘ ایک اور سوال کہ کیا دونوں بھارتی سپاہیوں کے سر قلم کیے گئے ہیں یا ایک کا سر قلم کیا گیا ہے کے جواب میں انہوں نے کہا ان کے پاس جو خبر ہے اس کے مطابق دونوں سپاہیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے تاہم انہیں صرف ایک سپاہی کا سر قلم کرنے کی خبر ملی ہے۔’ہمیں اس کی پوری تفصیل بہت جلد مل جائے گی۔‘

مزید پڑھیں

دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کی ہلاکت کے باعث کشیدگی پر امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سخت رویہ کسی معاملے کا حل نہیں اور امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے کردار ادا کررہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’اچھا ہوگا کہ دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک گیا تب بھی امریکہ اس میں معاونت کرے گا۔‘ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جاری کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’پاکستان نے چھ جنوری کے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے۔ مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقاقات شروع کرے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ جنوری کے واقعے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارتی فوج نے رابطہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہے۔  

مزید پڑھیں