تازہ ترین خبریں

تلاش کریں

اشتہار

کیلنڈر

خبریں

’ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیراعظم کا کوئی کردار نہیں‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ججوں کی تقرری کے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیر اعظم کا کوئی کردار باقی نہیں رہا ہے۔ جسٹس عارف حسین خلجی کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کی اور 102 صفحات پر مشتمل اپنی رائے دی۔ سپریم کورٹ کے بنچ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں اور انیسویں ترامیم کی منظوری کے بعد صدر اور وزیراعظم اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے صوابدیدی اختیارات نہیں رکھتے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق صدر اور وزیر اعظم ججوں کی تقرری سے متعلق عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔ سپریم کورٹ کے مطابق اٹھارہویں اور بیسویں آئینی ترامیم کے بعد چیف الیکشن کمشنر اور نگران وزیر اعظم کی تقرری میں بھی صدر کا صوابدیدی اختیار ختم ہو گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر نگران وزیرِ اعظم کا تقرر جانے والے وزیرِ اعظم اور حزبِ اختلاف کے رہنما کے مشورے پر اسمبلی کے تحلیل ہونے کے تین دن کے اندر اندر کرنے کا پابند ہو گا۔ اس کے علاوہ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور مسلح افواج کے سربراہوں کا تقرر بھی وزیرِ اعظم کے مشورے سے ہو گا۔ صدارتی ریفرنس میں تیرہ سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ان میں صدر نے اعلیِ عدالت سے کئی معاملات پر رائے طلب کی تھی۔ ان میں جسٹس ریاض اور جسٹس کاسی کی سینیارٹی کا معاملہ بھی شامل تھا۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ میں جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس طارق پرویز، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس شیخ عظمت سعید شامل تھے۔ بنچ نے 14 دسمبر 2012 کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

مزید پڑھیں

تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ

بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں بتایا ’پاکستانی فوجیوں نے ناجائز طور پر لائن آف کنٹرول پار کر کے بھارتی چوکی پر حملہ کیا جس میں دو بھارتی ’سپاہی شہید‘ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بلا کو بہت سخت الفاظ میں اپنی بات کو ان کے سامنے رکھا کہ وہ اپنی حکومت کو یہ بات پہنچا دیں کہ اس قسم کی بربریت کی یقیناً نہ کوئی توقع کر سکتا ہے اور نہ ہی برداشت کر سکتا ہے‘۔ بھارتی وزیر خارجہ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دونوں ممالک نے حالات بہتر کرنے کی جو کوشش کی ہے اس پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس سوال پر کہ بھارتی ذرائع ابلاغ میں تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور کے سر قلم کیے گئے ہیں تاہم پاکستانی فوج اور میڈیا اس بات سے انکار کرتا ہے، سلمان خورشید کا کہنا تھا ’ ظاہر ہے وہ آسانی سے دنیا کے سامنے اس بات کو قبول نہیں کریں گے لیکن ہمارے پاس ثبوت رہیں گے اور جب ضرورت پڑے گی تو یہ ثبوت دکھا دیے جائیں گے۔‘ ایک اور سوال کہ کیا دونوں بھارتی سپاہیوں کے سر قلم کیے گئے ہیں یا ایک کا سر قلم کیا گیا ہے کے جواب میں انہوں نے کہا ان کے پاس جو خبر ہے اس کے مطابق دونوں سپاہیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے تاہم انہیں صرف ایک سپاہی کا سر قلم کرنے کی خبر ملی ہے۔’ہمیں اس کی پوری تفصیل بہت جلد مل جائے گی۔‘

مزید پڑھیں