سبی: تین سال سے بند چلتن ایکسپریس کی بحالی کے اقدامات

سبی: تےن سال سے بند چلتن اےکسپرےس کی بحالی کے اقدامات کو حتمی شکل دے دی گئی ۔انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق بلوچستان کی عوام کی سفری مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے تےن سال سے زائدعرصے سے بندکوئٹہ سے لاہور براستہ ڈےرہ غازی خان چلنے والی مسافر ریل چلتن اےکسپرےس کو دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کےا ہے جس کی روشنی مےں مذکورہ مسافر ریل کو15ستمبر سے چلانے کے اقدمات کو حتمی شکل دی گئی ہے ، واضح رہے کہ سابق وزےر اعظم بے نظےر بھٹو کی شہادت کے موقع پر مسافر ریلوںاور اسٹےشنوں کوجلانے کے واقعات کے بعدمحکمہ رےلوے نے انجنوں اور مسافر بوگیوں کی کمی کے باعث کئی مسافرریلوں کو بند کردےا تھا جس مےں بلوچستان سے چلنے والی کوئٹہ، چلتن اےکسپرےس ، نائٹ کوچ بھی شامل تھیں۔ بلوچستان کے عوامی سماجی سےاسی حلقوں نے کوئٹہ سے چلتن اےکسپرےس کی بحالی کا حکومتی فیصلے کا خےر مقدم کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت سمےت وفاقی وزےر رےلوے سے مطالبہ کےا ہے کہ بلوچستان کی تمام بند مسافر ٹرےنوں جن مےں خاص کر نائٹ کوچ، اباسےن اےکسپرےس اور مہران اےکسپرےس کو بھی بحال کرکے عوام کو رےل کے سستے سفر کی بہترےن سروس فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائےں، محکمہ رےلوے کو بلوچستان مےں رےلوے مسافرٹرےنوں کی بندش سے ماہانہ لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے جبکہ مختلف اسٹےشنو ں پر محکمہ رےلوے کے اہلکاروں کی موجودگی کے باعث محکمہ رےلوے کو تنخواہوں کی مد مےں بھی نقصانات کا سامنا ہے جبکہ ہرنائی سبی سےکشن کی بندش کے باعث بھی رےلوے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے ۔