جامعہ دارالعلوم مظاہرالعلوم میں ختم بخاری کی پر وقار تقریب،مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد تقی عثمانی کا خطاب

حیدرآباد: حیدر آبادکی معروف دینی درس گاہ جامعہ دارالعلوم مظاہرالعلوم لطیف آباد یونٹ نمبر9میں ختم بخاری شریف کی عظیم الشان پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ مہمان خصوصی مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد تقی عثمانی نے تقریب کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان دینی اداروں کی ترقی کے لئے کئی افراد پس پردہ رہ کر کام میں لگے رہتے ہیں اور کام کو آگے بڑھاتے رہتے ہیں ایسے افراد مبارکباد کے مستحق ہیں اور اس ادارے سے اللہ والے پیدا ہوں جو دنیا والوں کی اصلاح کا ذریعہ بنیں ،میں نے عرصہ دراز سے ختم بخاریشریف کی تقریبات میں اس وجہ سے جانا ترق کر دیا تھا کہ کہیںیہ بدعت میں داخل نہ ہو جائے لیکن اس تقریب میں اس لئے آیا ہوں کیو ںکہ یہ اس مدرسے میںختم بخاری شریف کی پہلی تقریب ہے۔ انھوں نے طالب علموں کو بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے کہا کہ آخری حدیث کا درس باہر سے بلوا کرکسی اور سے دلوانا ٹھیک نہیں آخری درس دینے کا اصل حق دار وہی استا د ہے جس نے تمام حدیث پڑھائی ۔ انھوں نے کہا کہ امام بخاری کی اس آخری حدیث کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے اعما ل میں اخلاص پیدا کریں عمل چھوٹا ہو لیکن اس میں اخلاص ہو گا تو وہ اللہ کے ہاں وزن دار اور مقبول ہو گا ریاکاری سے کیا گیابڑے سے بڑا عمل بے وزن اور غیر مقبول ہو گا ۔مفتی تقی عثمانی نے دورہ بخاری شریف مکمل کرنے والے طالب علموںکو ہدایات دیتے ہو ئے کہا کہ ان کے عالم بننے کے بعد لو گوں کی ان پر نظر ہو گی عالم کے اعمال و اقوال کو لوگ دیکھیں گے زبان سے نکالی گئی بات ان کا تعارف ہوتا ہے وہ زبان کو قابو میں رکھیںیہ زبان اپنی نمودو نمائش اوردوسروں کی دل آزاری کے لئے ،غیبت کے لئے اور بہتان کے لئے استمعال نہ ہو یہ زبان تمہیں ہلاکت میں نہ ڈال دے آپ لو گ اعمال و اقوال کا خیال رکھیں آخرمیںبخاری شریف کادورہ مکمل کرنے والے 16طالب علموں کی دستار بندی کی گئی اورمفتی تقی عثمانی نے دعاءکروائی۔ تقریب میں جامعہ دارالعلوم مظاہرالعلوم کے مفتی محمد وجیہ ، جامع دارالعلوم کراچی سے تشریف لانے والے استاد الحدیث مولانا افتخار احمد اعظمی ،مفتی محمد یونس ،وفاق المدارس العربیہ سندھ کے ناظم مولاناڈاکٹر سیف الرحمن آرائیں ،مولانا مفتی محمد اصغر سمیت شہر بھر کے مدارس کے علمائ، اساتذہ کرام سندھ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کے عزیز و اقارب اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔