تازہ ترین خبریں

تلاش کریں

اشتہار

کیلنڈر

خبریں

صوبے کے 17اضلاع میں اسپتال قائم کیے جائیں گے: صوبائی وزیر ڈاکٹر سکندر علی میندھرو

بدین: صوبائی وزیر برائے ماحولیات ، پارلیمانی اموراورانسانی حقوق ڈاکٹر سکندر علی میندھرو نے کہا ہے کہ حکومت سندھ عام لوگوں کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے 17اضلاع میں ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال قائم کےے جا رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدین میں ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے تعمیراتی کام کا معائنہ کرنے کے دوران کیا، انھوں نے کہا کہ مذکورہ ہسپتال کی تعمیرکے لیے 1100ملین روپے مختص کےے گئے ہیں جبکہ اس منصوبے کا نوے فیصدکام مکمل ہو چکا ہے اور اسکی تکمیل سے ضلع کے علاوہ ارد گرد کی آبادی کو بھی جدید طرز کی طبی سہولیات مل سکیں گی اور یہ علاقے کا ایک بڑا ماڈل ہسپتال ہوگاجس میں جدید طرز کے سی ٹی اسکین شعبے ، جدید تشخیصی لیبارٹری، اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تقرری کی جائے گی ،اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اشفاق میمن ، ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر عبد الخالق کھٹی ، ڈی ایچ او ڈاکٹر اعجاز عرسانی ، ڈاکٹر محبوب خواجہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدا لرشید شیخ نے بتایا کہ یہ منصوبہ 2014تک مکمل ہوگا اور ہسپتال 47ایکڑز پر مشتمل ہوگا جس میں ڈاکٹروں کے لیے رہائشی اور ن کے بچوں کی تعلیم کے لیے اسکول ، پلے گراونڈ اور دیگر سہولیات بھی میسر ہوں گی، علاوہ ازیں ضلع بدین میں 5ٹراما سینٹر بھی تعمیر کےے جا رہے ہیں ، صوبائی وزیر نے کہا کہ اس ہسپتال کو پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت چلایا جائے گا، اس موقع پر صحافیوں کے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ وہ محکمہ صحت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اس لیے ہسپتال کا انتظام ان کے حوالے کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ انھوں نے سول ہسپتال بدین میں لیڈی ڈاکٹر وںس کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے وہاں لیڈی ڈاکٹروںکی تعیناتی کی یقین دہانی کرائی ،اس موقع پر پروفیسر محمد امین چنائی، پروفیسر عبد الباری خان ،عدنان اصغر اور کامران شیخ بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں

جام شورو: شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر نذیر اے مغل کی زیر صدارت اجلاس

جام شورو: شیخ الجامعہ سندھ جامشورو پروفیسر ڈاکٹر نذیر اے مغل کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں 27 اکتوبر کو ہونے والے ماسٹرز، ایم ایس/ایم فل اور 3 نومبر کو بیچلرز ڈگری پروگرام میں داخلوں کے لیے ہونے والے پری انٹری ٹیسٹ کے انتظامات کے بارے میں تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ایڈمیشن اختر احمد میمن، ڈاکٹر انور علی شاہ جی سید، ڈاکٹر امداد علی اسماعیلی، انچارج ڈائریکٹر فنانس بشیر احمد شیخ، ڈاکٹر سلیم چانڈیو، ڈاکٹر نور محمد جمالی، پروفیسر محمد یوسف پردیسی، ڈاکٹر عبدالرسول عباسی، ڈاکٹر اظہر علی شاہ، ڈاکٹر عابدہ طاہرانی، ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو، ڈاکٹر سرفراز حسین سولنگی، ڈاکٹر حاکم علی قناصرو، ڈاکٹر عبداللہ دایو، ڈاکٹر جاوید اقبال، ڈاکٹر ریاض میمن، ڈاکٹر اسلم پرویز میمن، ڈاکٹر اسد علی شیخ، ڈاکٹر عبدالستار عالمانی، ڈاکٹر پروین منشی، احسان شاہ راشدی، سجاد علی شاہ، انجنیئر قمرالحسن میمن، پرچیز اینڈ اسٹور افسر سلطان بلوچ ، غلام نبی کاکا و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں 27 اکتوبر اور 3 نومبر کو منعقد ہونے والے پری انٹری ٹیسٹوں کے انتظامات پر غور و خوض کے بعد سیکیورٹی سمیت دیگر امور کو حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ایڈمیشن اختر احمد میمن نے ماسٹرس، بیچلرس اور ایم فل میں داخلے کے لیے جمع ہونے والے فارم کی تعداد کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، اجلاس میں 3 نومبر پر ہندو برادری کے تہوار دیوالی کے بارے میں تفصیلی غور کرنے کے بعد انٹری ٹیسٹ ملتوی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں